ذات نہ پوچھو

0
253

بہار میں دو مدے صاف طور پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔پہلا ہے ترقی جسے مودی نے بہت زور کے ساتھ اٹھایا ہے ۔دوسرا مدا ذات رہے گا کیونکہ اس کی جڑیں بہار میں بہت گہری ہیں ۔ اس طرح سیاسی جماعتوں کی کامیابی اور نا کامی اس پر منحصر ہوگی کہ وہ ان دونوں مدوں کو کس طرح ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں ۔ چناؤ جیتنے کا جو بھی مدا بنے اتنا طے ہے کہ وہ ذاتی واد کے راستے ہی اپنا مقام پائے گا ۔ امیدواری میں شوشل انجینئرنگ یعنی ذات کی بنیاد پر امیدواری طے کئے جانے کی تکڑم جاری ہے ۔ سب کا ایک ہی فارمولہ ہے ، جس کے ووٹ کا پلڑا بھاری اس کی ٹکٹوں میں اتنی حصہ داری ۔

اس چناؤ میں ذات کی کاٹ میں ذات کو اتارا جانے والا ہے ۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ریاست کو ترقی کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔نتیش کمار نے خصوصی درجہ کی مانگ کر صوبہ کو ترقی کی راہ پر لانے کی خواہش کا ظہار کردیا ہے ۔ وہیں مودی نے پیکیج کا اعلان کر عوام کو صوبے کی ترقی کا خواب دکھایا ہے ۔پیکیج میں نوجوانوں اور عام لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے بہت کچھ ہے وہ اس کی گہرائی میں جا کر پڑتال نہیں کریں گے ۔ خیر اس مورچے پر کانٹے کی لڑائی جاری ہے ۔مگر یہ سب کچھ ذات کی مضبوط زمین پر ہو رہا ہے ۔ بھاجپا کے صدر امت شاہ کا وزیر اعظم اور بہار کے گورنر کو او بی سی کا بتانے کی منشا بھی پسماندہ ووٹوں کو اپنی پارٹی کی طرف متوجہ کرنا رہا ہوگا ۔لیکن لالو نتیش نے اس کو مدے میں تبدیل کردیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس چناؤ میں ذاتی واد پر ترقی کا ملما چڑھا دکھائی دیگا ۔

یہاں کے سماج کا تانا بانا ذاتوں کے مضبوط دھاگوں سے بنا ہے ۔الیکشن میں اس رنگ کے اور گاڑھا ہونے کی لمبی داستان ہے ۔ جس نے ریاست کو پسماندہ طبقہ سے کئی وزیر اعلیٰ دےئے ہیں ۔ اسی سے یہ نعرہ بھی نکلا ۔’’ ووٹ ہمارا راج تمہارا نہیں چلے گا ‘‘۔نہیں چلے گا ۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذات جیت حاصل کرنے کا سب سے بھروسے مند نسخہ ہے ۔ اگر ذاتوں کی شراکت پر نظر ڈالیں تو کچھ اس طرح کی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے ۔ یادو 11 ، برہمن 4.7 راجپوت4.2 کویری 4.1 کرمی 3,6 بھومی ہار 2.9 تیلی 2.8 دھانک 1.8 کہار 1.7 کانو 1.6 نائی 1.6 ملاح 1.50 کمہار 1.3 لوہار 1.3کائست 1.2فیصد ہیں ۔ایک یا ایک فیصد سے کم تعداد والی 18پسماندہ برادریاں اور ہیں ان کے علاوہ ایس سی 14.1 ، ایس ٹی 9.1 اور مسلمان 12.5فیصد ہیں ۔ ذاتوں کے یہ اعداد و شمار 1931کی مردم شماری سے لئے گئے ہیں ۔2011میں ذات کی بنیاد پر جو مردم شماری ہوئی تھی اس کی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے ۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ رپورٹ شائع نہ کرنے کے پیچھے سرکار کی کیا منشاء ہے ۔ البتہ ان اعداد و شمار سے سماج میں ذاتوں کی مضبوط موجودگی اور اہمیت کا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے ۔

اسمبلی چناؤ اپنے اصلی رنگ میں آرہا ہے ۔ یہ جیت کے تکڑم کا رنگ ہے جو ترقی کو انتخابی مدا تو دکھاتا ہے لیکن اس کے مرکز میں ذات ہے ۔ ’’ ذات توڑو جینو توڑو :: تحریک چلانے والے کھلے عام لوگوں کو ذات کی بنیاد پر اکٹھا کرنے میں لگے ہیں ۔وہیں لالو پرساد اپنی قوم یعنی یادو کو سمجھا رہے ہیں کہ بھاجپا سے ہوشیار رہیں ۔ وہ یادو امیدوار دے گی تمہارے ووٹ کاٹے گی۔ میں منڈل 2لارہا ہو ں ، منڈل والو جاگو ۔ کمنڈل ( بی جے پی) کو پھاڑ دو ۔ وہ یادوں کے ووٹ کے بکھراؤ کو روکنا چاہتے ہیں ۔ شاید اسی لئے عظیم اتحاد نے 64ٹکٹ یادو ں کو دےئے ہیں ۔دوسری طرف بی جے پی اور اس کے ساتھی ذاتوں کے سمیکرن بٹھانے میں لگے ہیں ۔ وہ اپنے ساتھ جڑے یادو ں کے چہروں کو میٹنگو ں اور ریلیوں میں دکھا کر اور ان کے نام بتا کر عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اصلی اور اچھے یادو تو ادھر ہیں ۔یادوں ہی نہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی سبھاؤں میں ویسے سبھی لیڈر بڑے کرینے سے پیش کئے گئے ہیں جن کی اپنی اپنی برادریوں میں حیثیت ہے ۔ این ڈی اے دعویٰ کررہا ہے کہ اب منڈل کمنڈل دونوں ہمارے ساتھ ہیں ۔ موہن بھاگوت کا ریزرویشن پر تازہ بیان ذاتوں کی جوڑ توڑ پر کیا اثر ڈالے گا یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا ۔

نتیش کمار2005میں ذاتوں کے رتھ پر سوار ہوکر ہی وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچے تھے ۔ انہوں نے پسماندہ ذاتوں کو نئی پہچان دینے کی کوشش کی ۔ پچھڑی ذاتوں میں معاشی اعتبار سے کمزور ذاتوں کو انتہائی پسماندہ کے زمرے میں رکھا ۔ او بی سی کے 27فیصد کوٹے میں سے ان کو 20فیصد دیا گیا ۔ انتہائی پسماندہ کے تقریبا 30فیصد ووٹ ہیں اور او بی سی کی اونچی ذاتوں کے 24فیصد ۔ ابھی حال ہی میں نتیش کمار نے تیلی برادری کو انتہائی پسماندہ کے زمرے میں شامل کیا ہے ۔ اس کا فائدہ انہیں ملنے کی امید ہے ۔ اس طرح انہوں نے لوکش یعنی کوئری کرمی کو ملا کر ووٹوں کی طاقت میں تبدیل کیا ۔ یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ چناؤ کا پانسا پلٹ سکتی ہے ۔اوپندر کشواہا نے اسی کا فائدہ اٹھا کر اپنی الگ پارٹی کی بنیاد ڈالی ۔2014کا پارلیمنٹ چناؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر لڑا اور تین سیٹیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ کشواہا کبھی جے ڈی یو کا ہی حصہ تھے ۔

بہار کی آبادی میں 23فیصد دلت ہیں نتیش کمار نے 2010میں سیاسی طور پر مضبوط پاسوانوں ( دوسادھ) کو الگ کرکے باقی ایس سی ذاتوں کو مہا دلت کے زمرے میں شامل کردیا ۔ اتنا ہی نہیں مہا دلتوں کی فلاح و بہبود کے لئے مہا دلت کمیشن بھی قائم کیا ۔ اس طرح انتہائی پسماندہ کے لئے 20 فیصد ریزرویشن کا انتظام کیا گیا ۔مسئلہ یہ ہے کہ آپ اقتدار میں ہوں یا اقتدار کے باہر آپ کے فیصلے اور وعدوں کے مرکز میں ذات ہی رہتی ہے ۔ نتیش کمار نے مہا دلت میں سے ہی اپنی کوششوں سے جتن رام مانجھی کو پیدا کیا ۔ مہا دلت کی نئی تعریف گڑھتے ہوئے انہوں نے جس طاقت کو اپنے سیاسی فائدے کے لئے تیار کیا تھا اس بار وہ خود ہی اس کا چیلینج جھیلنے والے ہیں ۔جتن رام مانجھی اگر وزیر اعلیٰ نہ بنے ہوتے تو اس الیکشن میں وہ محض ایک امیدوار ہوتے ۔ حالات بدلے اور بھاجپا اتحاد میں وہ 20سیٹوں کا حصہ لے کر پہلی بار سیاست کی گہرائی ناپنے نکل پڑے ہیں ۔

بی جے پی بظاہر بہار کو ترقی کا خواب دکھا رہی ہے اس کے ذمہ دار کہہ رہے ہیں کہ ہم بہار کو گجرات یا مہاراشٹر جیسی ترقی یافتہ ریاست بنانا چاہتے ہیں ۔ لیکن اصل میں وہ بھی ذات کی سیاست کے دم پر اس انتخاب کو جیتنا چاہتی ہے تبھی تو اس نے پاسوان ، اوپندر کشواہا اور مانجھی کو اپنے اتحاد کا حصہ بنایا ہے ۔یہ وقت بتائے گا کہ پاسوانوں کی بی جے پی میں مضبوط موجودگی کے با وجود کیا مہا دلت مانجھی کی وجہ سے بی جے پی کے ساتھ جائیں گے یا نہیں ۔اسی طرح کشواہا کرمی ووٹوں کو کس حد تک بی جے پی اتحاد کو دلا پانے میں کامیاب ہوں گے۔ ٹکٹوں کی تقسیم سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی اتحاد نے سبھی ذاتوں کو سادھنے کی کوشش کی ہے ۔البتہ اس میں اگڑی (اشراف ذاتوں)کی بالا دستی کا اشارہ بھی موجود ہے ۔مثلا بی جے پی اتحاد نے برہمن ، راجپوت ، بھومی ہار اور کائستوں کو 85ٹکٹ دےئے ہیں ۔عظیم اتحاد نے اس کا جواب مائی (مسلم ، یادو) اور لوکش ( کرمی ، کوئری ) میں تلاشا ہے ۔ مائی کو 97اور کرمی کوئری کو 38 ٹکٹ دےئے گئے ہیں جبکہ بی جے پی اتحاد نے مائی کو 9 مسلم 25 یادو کل 34 اور کرمی کوئری کو صرف23ٹکٹ دےئے ہیں ۔ انتہائی پسماندہ ، دلت اور مہا دلت کو عظیم اتحاد سے 63امیدواروں کو ٹکٹ ملا ہے ۔ این ڈی اے سے ان کو 54ٹکٹ ملے ہیں ۔ بھاجپا ویشیوں پر اپنا حق مانتی ہے این ڈی اے نے ان کو 18ٹکٹ دےئے ہیں جبکہ عظیم اتحاد نے ان کو صرف 6ٹکٹ دےئے ۔ بی جے پی نے مسلم ووٹوں کو بانٹ کر بے اثر کرنے کی پوری کوشش کی ہے تاکہ انتخاب میں ان کے منصوبہ کے مطابق ہو بقول کے سی تیاگی کے یہ الیکشن نتیش کمار کی دس سالہ حکومت اور مودی کی پونے دوسالہ کار کردگی پر ہوگا ۔بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ آر کے سنگھ نے پارٹی کے ٹکٹ بانٹے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی نے پیسے لیکر ڈکیتوں تک کو ٹکٹ بانٹ دےئے ہیں۔

25سال سے کم عمر کے 58فیصد لوگوں کے ساتھ بہار سب سے جوان ریاست ہے ۔لگ بھگ 24فیصد ووٹر ایسے ہیں جو پہلی بار ووٹ ڈالیں گے 6.68کروڑ ووٹروں میں سے 56فیصد کی عمر 40سال سے کم ہے جبکہ 243 سیٹوں والی ودھان سبھا کے حلقوں میں 30سال سے کم عمر والے ووٹروں کا حصہ 27فیصد سے بھی زیادہ ہے لیکن ان عام نو جوانوں کی مقامی سیاست میں نہ کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ہیرو ۔ایسی صورت میں یہ مانا جا رہا ہے کہ یہ نو جوان پیڑھی ذات کے ساتھ کھڑی ہونے کے بجائے روز گار ، تعلیم ،ترقی اور بد عنوانیوں سے آزادی کی امید لگا رہی ہے پچھلے 15سالوں میں یہاں خواندگی ، تعلیم اور بیداری کے معیار میں اضافہ ہوا ہے ۔خواندگی 47فیصد سے بڑھ کر 70فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔اس لئے یہ کہا جا رہا ہے کہ نو جوان بہاری ووٹر اس الیکشن میں ایک نئی کہانی لکھ سکتے ہیں ۔اپنے مدے اور ایجنڈے کی پہچان کر چکے ریاست کے اس نئے اور سب سے بڑے ووٹ بنک نے یہاں ہو رہے انتخابات کے مدے اور طور طریقہ کا فی بدل دےئے ہیں ۔ ممکن ہے یہ دیش کی سیاست میں ذات اور دھرم کو توڑنے کی نئی عبارت بھی لکھ دیں ۔

جے پی نڈھا کا کہنا ہے کہ ہمیں پتا ہے اپنی امیدیں پوری نہ ہونے کی وجہ سے ریاست کا نو جوان بہت گھٹن محسوس کررہا ہے اسی بے چینی کو سمجھتے ہوئے ہم نے ریاست میں 60 فیصد ٹکٹ جوانوں کو دےئے ہیں ۔شہری نوجوانوں میں مودی کے ترقی کے ایجنڈے کی طرف جھکاؤ صاف دیکھا جا سکتا ہے ۔ لالو ۔ نتیش کو اس سے نپٹنے کی کار گر حکمت عملی تیار کرنی ہوگی ۔ دوسرا چیلنج یہ ہے کہ لالو ، نتیش ایک عرصہ تک ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں ایسے میں کیا لالو کے ووٹ نتیش کو اور نتیش کے ووٹ لالو کو مل سکیں گے ؟ عظیم اتحاد نے پہلے مرحلہ کے الیکشن میں یادو ، مسلم پر داؤں لگایا ہے ۔جبکہ مسلمان اپنے فیصد کے لحاظ سے کم ٹکٹ ملنے سے ناراض ہیں کیا لالو ، نتیش ان کو مطمئن کر سکیں گے ۔ بہر حال اس الیکشن سے مرکز میں بی جے پی کو کوئی خاص فائدہ تو نہیں ہوگا لیکن آگے آنے والے پانچ ریاستوں کے انتخابات اس سے ضرور متاثر ہوں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بہار کے ووٹر کس کو چنتے ہیں ذات کو یا ترقی کو ۔ کبیر داس بہار میں ہوتے تو شاید انہیں بھی کہنا پڑتا ’’ ذات ہی پوچھو سادھو کی ‘‘ ۔

_________

जात न पूछो

बिहार में दो मुद्दे साफ़ तौर पर देखे जा सकते हैं। पहला है तरक़्क़ी जिसे मोदी ने बहुत ज़ोर के साथ उठाया है। दूसरा मुद्दा जाति रहेगा क्योंकि उस की जड़ें बिहार में बहुत गहिरी हैं। इस तरह सयासी जमातों की कामयाबी और नाकामी इस पर मुनहसिर होगी कि वो इन दोनों मुद्दों को किस तरह एक दूसरे से जोड़ते हैं। चुनाव जीतने का जो भी मुद्दा बने इतना तै है कि वो जातिवाद के रास्ते ही अपना मुक़ाम पाएगा। उम्मीद-वारी में शोशल इंजीनीयरिंग यानी जाति की बुनियाद पर उम्मीद-वारी तै किए जाने की तिकड़म जारी है। सब का एक ही फार्मूला है, जिसके वोट का पलड़ा भारी उस की टिक्टों में इतनी हिस्सेदारी।

इस चुनाव में जाति की काट में जाति को उतारा जाने वाला है। ये सब ऐसे वक़्त में हो रहा है जब रियासत को तरक़्क़ी की बहुत ज़्यादा ज़रूरत है। नितीश कुमार ने ख़ुसूसी दर्जे की मांग कर सूबे को तरक़्क़ी की राह पर लाने की ख़ाहिश का इज़हार कर दिया है। वहीं मोदी ने पैकेज का ऐलान कर अवाम को सूबे की तरक़्क़ी का ख़ाब दिखाया है। पैकेज में नौजवानों और आम लोगों को मुतास्सिर करने के लिए बहुत कुछ है — वो उस की गहराई में जा कर पड़ताल नहीं करेंगे। ख़ैर, इस मोर्चे पर कांटे की लड़ाई जारी है। मगर ये सब कुछ जाति की मज़बूत ज़मीन पर हो रहा है।

भाजपा के सदर अमित शाह का वज़ीर-ए-आज़म और बिहार के गवर्नर को ओबीसी का बताने की मंशा भी पसमांदा वोटों को अपनी पार्टी की तरफ़ मुतवज्जे करना रहा होगा। लेकिन लालू-नितीश ने इस को मुद्दे में तबदील कर दिया। ऐसा लगता है कि इस चुनाव में जातिवाद पर तरक़्क़ी का मुलम्मा चढ़ा दिखाई देगा।
यहाँ के समाज का ताना-बाना जातियों के मज़बूत धागों से बना है। इलेक्शन में इस रंग के और गाढ़ा होने की लंबी दास्तान है। जिसने रियासत को पसमांदा तबक़े से कई वज़ीर-ए-आला दिए हैं, इसी से ये नारा भी निकला — “वोट हमारा, राज तुम्हारा/ नहीं चलेगा, नहीं चलेगा!”

ग़ौर करने से मालूम होता है कि जाति जीत हासिल करने का सबसे भरोसेमंद नुस्ख़ा है। अगर जातियों की शराकत पर नज़र डालें तो कुछ इस तरह की तस्वीर उभर कर सामने आती है। यादव 11, ब्राह्मण 4.7, राजपूत 4.2, कोएरी 4.1, कुर्मी 3.6, भूमिहार 2.9, तेली 2.8, धानक 1.8, कहार 1.7, कानू 1.6, नाई 1.6, मल्लाह 1.50, कुम्हार 1.3, लोहार 1.3, कायस्थ 1.2 फ़ीसद हैं। एक या एक फ़ीसद से कम तादाद वाली 18 पसमांदा बिरादरियाँ और हैं; उनके इलावा एससी 14.1, एसटी 9.1 और मुसलमान 12.5 फ़ीसद हैं।

जातियों के ये आदाद-ओ-शुमार 1931 की मर्दुम-शुमारी से लिए गए हैं। 2011 में जाति की बुनियाद पर जो मर्दुम-शुमारी हुई थी उस की रिपोर्ट अभी आना बाक़ी है। ये अलग बहस है कि वो रिपोर्ट शाय न करने के पीछे सरकार की क्या मंशा है। अलबत्ता उन आदाद-ओ-शुमार से समाज में जातियों की मज़बूत मौजूदगी और अहमियत का अंदाज़ा ज़रूर लगाया जा सकता है।

असेंबली चुनाव अपने असली रंग में आ रहा है। ये जीत के तिकड़म का रंग है जो तरक़्क़ी को इंतिख़ाबी मुद्दा तो दिखाता है लेकिन इस के मर्कज़ में जाति है। जाति तोड़ो, जीनो तोड़ो! तहरीक चलाने वाले खुले आम लोगों को जाति की बुनियाद पर इकट्ठा करने में लगे हैं। वहीं लालू प्रसाद अपनी क़ौम यानी यादवों को समझा रहे हैं कि भाजपा से होशयार रहें; ‘वो यादव उम्मीदवार देगी तुम्हारे वोट काटेगी; मैं मंडल 2 ला रहा हूँ; मंडल वालो जागो, कमंडल (बीजेपी) को फाड़ दो।‘ वो यादवों के वोट के बिखराव को रोकना चाहते हैं। शायद इसी लिए अज़ीम इत्तिहाद ने 64 टिकट यादवों को दिए हैं। दूसरी तरफ़ बीजेपी और इस के साथी जातियों के समीकरण बिठाने में लगे हैं। वो अपने साथ जुड़े यादवों के चेहरों को मीटिंगों और रैलीयों में दिखा कर और उनके नाम बता कर अवाम को ये समझाने की कोशिश कर रहे हैं कि असली और अच्छे यादव तो उधर हैं। यादव ही नहीं, वज़ीर-ए-आज़म नरेंद्र मोदी की सभाओं में वैसे सभी लीडर बड़े करीने से पेश किए गए हैं जिनकी अपनी-अपनी बिरादरीयों में हैसियत है। एनडीए दावा कर रहा है कि अब मंडल कमंडल दोनों हमारे साथ हैं। मोहन भागवत का रिज़र्वेशन पर ताज़ा बयान जातियों की जोड़ तोड़ पर क्या असर डालेगा ये देखना दिलचस्प होगा।

नितीश कुमार 2005 में जातियों के रथ पर सवार हो कर ही वज़ीर-ए-आला की कुर्सी तक पहुँचे थे। उन्होंने पसमांदा जातियों को नई पहचान देने की कोशिश की। पिछड़ी जातियों में मआशी ऐतबार से कमज़ोर जातियों को इंतिहाई पसमांदा के ज़ुमरे में रखा। ओबीसी के 27 फ़ीसद कोटे में से उनको 20 फ़ीसद दिया गया। इंतिहाई पसमांदा के तक़रीबन 30 फ़ीसद वोट हैं और ओबीसी की ऊंची जातियों के 24 फ़ीसद। अभी हाल ही में नतीश कुमार ने तेली बिरादरी को इंतिहाई पसमांदा के ज़ुमरे में शामिल किया है। इसका फ़ायदा उन्हें मिलने की उम्मीद है। इस तरह उन्होंने लव-कुश यानी कोएरी कुर्मी को मिला कर वोटों की ताक़त में तबदील किया। ये इतनी बड़ी तादाद है कि चुनाव का पाँसा पलट सकती है। उपेन्द्र कुशवाहा ने उसी का फ़ायदा उठा कर अपनी अलग पार्टी की बुनियाद डाली। 2014 का लोक सभा चुनाव भारतीय जनता पार्टी के साथ मिलकर लड़ा और तीन सीटें हासिल करने में कामयाबी हासिल की। कुशवाहा कभी जेडीयू का ही हिस्सा थे।

बिहार की आबादी में 23 फ़ीसद दलित हैं। नितीश कुमार ने 2010 में सियासी तौर पर मज़बूत पासवानों (दौसाध्) को अलग करके बाक़ी एससी जातियों को महादलित के ज़ुमरे में शामिल कर दिया। इतना ही नहीं, महादलितों की फ़लाह-ओ-बहबूद के लिए महादलित कमीशन भी क़ायम क्या। इस तरह इंतिहाई पसमांदा के लिए 20 फ़ीसद रिज़र्वेशन का इंतज़ाम किया गया। मसला ये है कि आप इक़तिदार में हों या इक़तिदार के बाहर, आपके फ़ैसले और वादों के मर्कज़ में जाति ही रहती है।
नितीश कुमार ने महादलित में से ही अपनी कोशिशों से जीतन राम माँझी को पैदा किया। महादलित की नई तारीफ़ गढ़ते हुए उन्होंने जिस ताक़त को अपने सियासी फ़ायदे के लिए तैयार किया था इस बार वो ख़ुद ही इस का चैलेंज झेलने वाले हैं। जीतन राम माँझी अगर वज़ीर-ए-आला न बने होते तो इस इलेक्शन में वो महज़ एक उम्मीदवार होते। हालात बदले और भाजपा इत्तिहाद में वो 20 सीटों का हिस्सा लेकर पहली बार सियासत की गहराई नापने निकल पड़े हैं।

बीजेपी बज़ाहिर बिहार को तरक़्क़ी का ख़ाब दिखा रही है। इस के ज़िम्मेदार कह रहे हैं कि हम बिहार को गुजरात या महाराष्ट्र जैसी तरक़्क़ी याफ़ताह रियासत बनाना चाहते हैं। लेकिन असल में वो भी जाति की सियासत के दम पर इस इंतिख़ाब को जीतना चाहती है। तभी तो उसने पासवान, कुशवाहा और माँझी को अपने इत्तिहाद का हिस्सा बनाया है। ये वक़्त बताएगा कि पासवानों की बीजेपी में मज़बूत मौजूदगी के बावजूद क्या महादलित माँझी की वजह से बीजेपी के साथ जाऐंगे या नहीं। इसी तरह कुशवाहा कुर्मी वोटों को किस हद तक बीजेपी इत्तिहाद को दिला पाने में कामयाब होंगे। टिकटों की तक़सीम से अंदाज़ा होता है कि बीजेपी इत्तिहाद ने सभी जातियों को साधने की कोशिश की है। अलबत्ता इसमें अगड़ी (अशराफ़ जातियों) की बाला-ए-दस्ती का इशारा भी मौजूद है। मसला बीजेपी इत्तिहाद ने ब्राह्मण, राजपूत, भूमिहार और कायस्थों को 85 टिकट दिए हैं। अज़ीम इत्तिहाद ने इस का जवाब माइ (मुस्लिम, यादव) और लवकुश (कुर्मी, कोएरी) में तलाशा है। माइ को 97 और कुर्मी कोएरी को 38 टिकट दिए गए हैं जबकि बी जे पी इत्तिहाद ने माइ को 9, मुस्लिम 25, यादव कुल 34 और कुर्मी कोएरी को सिर्फ़ 23 टिकट दिए हैं। इंतिहाई पसमांदा, दलित और महादलित को अज़ीम इत्तिहाद से 63 उम्मीदवारों को टिकट मिला है। एनडीए से उनको 54 टिकट मिले हैं। भाजपा वैश्यों पर अपना हक़ मानती है; एनडीए ने उनको 18 टिकट दिए हैं जबकि अज़ीम इत्तिहाद ने उनको सिर्फ 6 टिकट दिए। बीजेपी ने मुस्लिम वोटों को बांट कर बेअसर करने की पूरी कोशिश की है ताकि इंतिख़ाब उनके मन्सूबे के मुताबिक़ हो।
बाक़ौल केसी त्यागी के ये इलैक्शन नितीश कुमार की दस साला हुकूमत और मोदी की पौने दोसाला कारकर्दगी पर होगा। बी जे पी के मैंबर पार्लमेंट आरके सिंह ने पार्टी के टिकट बाँटे जाने पर एतराज़ करते हुए कहा है कि बीजेपी ने पैसे लेकर डकैतों तक को टिकट बांट दिए हैं!

25 साल से कम उम्र के 58 फ़ीसद लोगों के साथ बिहार सबसे जवान रियासत है। लगभग 24 फ़ीसद वोटर ऐसे हैं जो पहली बार वोट डालेंगे; 6.68 करोड़ वोटरों में से 56 फ़ीसद की उम्र 40 साल से कम है जबकि 243 सीटों वाली विधान सभा के हलक़ों में 30 साल से कम उम्र वाले वोटरों का हिस्सा 27 फ़ीसद से भी ज़्यादा है, लेकिन इन आम नौजवानों की मुक़ामी सियासत में न कोई नुमाइंदगी है और न ही उनका कोई हीरो। ऐसी सूरत में ये माना जा रहा है कि ये नव जवान पीढ़ी जाति के साथ खड़ी होने के बजाय रोज़गार, तालीम,तरक़्क़ी और बद उनवानियों से आज़ादी की उम्मीद लगा रही है।

पिछले 15 सालों में यहाँ ख़वांदगी, तालीम और बेदारी के मयार में इज़ाफ़ा हुआ है। ख़वांदगी 47 फ़ीसद से बढ़कर 70 फ़ीसद तक पहुंच गई है। इसलिए ये कहा जा रहा है कि नौजवान बिहारी वोटर इस चुनाव में एक नई कहानी लिख सकते हैं। अपने मुद्दे और एजंडे की पहचान कर चुके रियासत के इस नए और सबसे बड़े वोट बैंक ने यहाँ हो रहे इंतिख़ाबात के मुद्दे और तौर तरीक़े काफ़ी बदल दिए हैं। मुम्किन है ये देश की सियासत में जाति और मज़हब को तोड़ने की नई इबारत भी लिख दें। जेपी नड्डा का कहना है कि उन्हें पता है अपनी उम्मीदें पूरी ना होने की वजह से रियासत का नौजवान बहुत घुटन महसूस कर रहा है; उसी बेचैनी को समझते हुए हमने रियासत में 60 फ़ीसद टिकट जवानों को दिए हैं। शहरी नौजवानों में मोदी के तरक़्क़ी के एजंडे की तरफ़ झुकाव साफ़ देखा जा सकता है। लालू-नितीश को इस से निपटने की कारगर हिक्मत-ए-अमली तैयार करनी होगी।

दूसरा चैलेंज ये है कि लालू-नितीश एक अरसे तक एक दूसरे के मुख़ालिफ़ रहे हैं; ऐसे में क्या लालू के वोट नितीश को और नितीश के वोट लालू को मिल सकेंगे? अज़ीम इत्तिहाद ने पहले मरहले के इलेक्शन में यादव, मुस्लिम पर दाँव लगाया है जबकि मुस्लमान अपने फ़ीसद के लिहाज़ से कम टिकट मिलने से नाराज़ हैं। क्या लालू-नितीश उनको मुतमइन कर सकेंगे? बहर-ए-हाल, इस इलेक्शन से मर्कज़ में बीजेपी को फ़िलहाल कोई ख़ास फ़ायदा तो नहीं होगा (कुछ साल बाद राज्य सभा में उसकी शिरकत अलबत्ता बढ़ सकती है), लेकिन आगे आने वाले पाँच रियासतों के इंतिख़ाबात इससे ज़रूर मुतास्सिर होंगे।

अब देखना ये है कि बिहार के वोटर किस को चुनते हैं — जाति को या तरक़्क़ी को। कबीर दास बिहार में होते तो शायद उन्हें भी कहना पड़ता “जाति ही पूछो साधू की”!