Wednesday 26 January 2022
- Advertisement -

امیدوں کا اندر دھنش/ उम्मीदों का इंद्रधनुष

مشن اندر دھنش کا دوسرا دور اسی اکتوبر میں شروع ہو چکا ہے ۔ پہلی صف میں پیدل فوجیو ں کی مدد سے ہی کچھ اہم جنگیں جیتی جاتی ہیں ۔ اس مہم کی پہلی صف میں صحت کی خدمت گار خواتین آشا، آنگن واڑی کارکنان اور اے این ایم وغیرہ ہیں ۔ جو بچوں کی ٹیکہ کاری کر ٹیکہ سے روکی جانے والی بیماریوں سے لڑنے میں مدد کررہی ہیں ۔ گرمی کی تیز دھوپ ہو یا مانسون کی تیز بارش صحت کی محافظ کارکنان دور دراز علاقوں میں جاکر یہ یقینی بناتی ہیں کہ ہر بچے کو ضروری ٹیکے لگیں ۔وہ موسم سے ہی نہیں لڑتیں بلکہ نا خواندگی ، ذات پات کے بھید بھاؤ اور مذہب کی دیواریں بھی ان کی راہ میں رکاوٹیں بنتی ہیں ۔


ابھی صورتحال یہ ہے کہ بھارت میں مفت ٹیکہ کاری ہونے کے با وجود ہر بچے کو ٹیکہ نہیں لگ سکا ہے ۔معمول کی ٹیکہ جکاری 65فیصد بچوں کو ہی کور کرسکی ہے ۔ ایک تخمینہ کے مطابق 89لاکھ بچے معمول کی ٹیکہ کاری پروگرام (آر آئی) کے تحت ایک یا ایک سے زیادہ ٹیکوں سے محروم ہیں ۔ خاص طور پر وہ بچے جن کے والدین اینٹ کے بھٹوں اور کنسٹرکشن سائٹس پر کام کرتے ہیں ۔ ان کے بچے لیبر ہٹ منٹ میں رہتے ہیں ان کے علاوہ جگی جھونپڑی ، ملین بستیوں ، گاؤں اور آدی واسی آبادیوں میں رہنے والے بچے بھی معمول کی ٹیکہ کاری پروگرام میں کور نہیں ہو پا رہے ہیں ۔ایسے تمام طبقات کی ڈیو لسٹ تیار کی گئی ہے جن تک معمول کے ٹیکے نہیں پہنچ پا رہے تھے ۔مشن اندر دھنش کا مقصد ہے 2020 تک بنا ٹیکہ لگے یا ایک آدھ ٹیکہ لگے بچوں کو سبھی سات بیماریوں ٹیٹنس ،پولیو ، تپدق،  خسرہ، ہیپٹائٹس بی ، کالی کھانسی اور ڈیپ تھیریا سے بچاؤ کے ٹیکے لگ سکیں ۔


ٹیکہ کاری کا کام پلس پولیو مہم کی طرح نہیں ہوتا ۔جس میں ہیلتھ کارکنان گھر گھر جاکر پولیو کی بوند بچوں کو پلاتے ہیں ۔ مشن اندر دھنش کے تحت گھر گھر جا کر ٹیکہ نہیں لگایا جائے گا ۔لیکن ڈیو لسٹ کے مطابق چھوٹے ہوئے طبقات کے علاقوں میں ٹیکہ کاری کیمپ لگایا جائے گا تاکہ حاملہ عورتیں اوربچے اپنے علاقہ میں بنائے گئے کیمپ میں جا کر ٹیکہ لگواسکیں ۔یہ کیمپ پر ماہ سات سے چودہ یعنی ایک ہفتہ کے لئے لگائے جائیں گے ۔ ایسے میں پبلک ہیلتھ کارکنان مثلا آشا ، اے این ایم اور آنگن واڑی ورکروں کا رول خاص ہے کیونکہ وہی بچوں یا ماؤں کو کیمپ تک آنے کے لئے حوصلہ افزائی کرتی ہیں ۔یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ دیہی اور محروم طبقات تک سرکاری حفظان صحت کی خدمات پہنچانے میں آشا کارکنوں کی خصوصی کوششیں شامل ہیں ۔ وہ بچوں کی پیدائش کا ریکارڈ رکھتی ہیں اور ماؤں سے مل کر یہ یقینی بناتی ہیں کہ کوئی بچہ ٹیکہ کاری سے چھوٹ نہ جائے ۔اتنا ہی نہیں وہ ٹیکہ کاری کی اہمیت لوگو ں کو سمجھاتے ہوئے انہیں بتاتی ہیں کہ اگر وقت پر بچوں کو ٹیکہ نہ لگا تو کن کن بیماریو ں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ دنیا میں ہر منٹ 21بچے بیماریوں سے مرتے ہیں سال میں 1.1کروڑ جن میں سے 70فیصد بچے ٹیکہ کاری سے بچائے جا سکتے ہیں ۔


آشا کی طرح ہی اے این ایم اور آنگن واڑی کارکنان بھی پنچایت کے ممبران ، اسکولوں کے اساتذہ ، مذہبی شخصیات اور سماج کے بڑے بزرگوں کے ساتھ مل کر لوگوں کو ٹیکہ کاری کیمپ آنے اور اپنے بچوں کو ٹیکہ لگوانے کے لئے آمادہ کرتے ہیں ۔وہ مقامی ہوتی ہیں اسی سماج میں سب کے ساتھ رہتی ہیں اس لئے عام لوگوں کے ساتھ بھروسے و اعتماد کا جو تعلق آشا اور اے این ایم کارکنان بناتی ہیں ۔ وہ بھارت میں ٹیکہ کاری مہم کی کامیابی میں انتہائی کار گر ہے ۔ یہ پبلک ہیلتھ کارکنان کی بے انتہا کوششیں ہی ہیں کہ مشن اندر دھنش کے تحت اب تک 75لاکھ سے زیادہ بچوں کو ٹیکہ لگایا جا چکا ہے اور 19.7لاکھ بچے مکمل ٹیکہ کاری سے مستفید ہو چکے ہیں ۔ مشن اندر دھنش کے تحت یہ منصوبہ بنایا گیا ہے کہ ٹیکہ کاری وریج میں ہر سال 5فیصد کا اضافہ ہو تاکہ پانچ سالوں میں ٹیکہ کاری کے 90فیصد کوریج کا ٹارگیٹ پورا کیا جا سکے ۔ابھی یہ کوریج 65.2فیصد ہے 35فیصد بچے ایسے ہیں جنہیں سارے ٹیکے نہیں لگ پاتے یا ایک بھی ٹیکہ نہیں لگ پاتا۔

سرکاری اشتہار
سرکاری اشتہار

اس مشن کی کامیابی کے لئے آشا اور اے این ایم کو خصوصی تربیت دی گئی ہے تاکہ وہ پولیو سمیت سات بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگا سکیں ۔وہیں حاملہ خواتین کو ٹیٹنس کے ٹیکے دے سکیں ۔مشن کو کامیاب بنانے کے لئے لیبر ڈپارٹمنٹ اور شعبہ تعلیم کی بھی مدد لی جا رہی ہے تاکہ کنسٹریکشن سائٹوں پر مزدوروں کے بچوں کی ٹیکہ کاری آسانی سے ہو سکے ۔مشن اندر دھنش کے تحت ٹیکہ کاری مہم چار ماہ تک جاری رہے گی اس مہم کو کارگر بنانے کے لئے شہری و دیہی علاقوں کے لئے الگ الگ منصوبہ سازی کی گئی ہے اکتوبر کی 13تاریخ کے بعد دیوالی کی وجہ سے ٹیکہ چار سے دس نومبر تک لگائے جائیں گے ۔ وہیں دسمبر اور جنوری میں یہ مہم سات سے تیرہ تاریخ کو چلائی جائے گی ۔ہر ضلع میں ضلع سواستھ ادھیکاری کو اس مہم کے کامیاب بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔


دیش کے 184اضلاع میں حفظان صحت کی سہولیات کی حالت بے حد خراب ہے ۔ بھارت دنیا کے ان پسماندہ ممالک میں شامل ہے جہاں زچہ بچہ اموات کی در زیادہ ہے ۔WHOکی رپورٹ کے مطابق یہاں ایک لاکھ خواتین میں سے 190معاملوں میں زچہ یا بچہ کی موت ہو جاتی ہے ۔ جبکہ پاکستان اور سری لنکا میں یہ آنکڑا 170ہے ۔ صحت سے متعلق افسوسناک واقعات کی وجہ سے لوگ معاشی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں کیونکہ کوئی بھی اپنے عزیزوں کو بغیر علاج کے مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا ۔مشن اندر دھنش دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس مہم کا افتتاح کرتے وقت یہ امید ظاہر کی تھی کہ اس مہم کے ذریعہ بھارت کو ماں اور نو مولود کو ہونے والے ٹیٹنس سے آزاد ملک بنایا جا سکے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ مشن اندر دھنش زچہ بچہ اموات در کو بھی کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا ۔


بحرحال مشن اندر دھنش کے تحت کئی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے وقت ۔وقت پر ٹیکے لگائے جاتے ہیں جس کے لئے ایک مقرر وقت تک نگرانی ضروری ہے ۔ لہذا آشا ، اے این ایم اور آنگن واڑی کارکنان کے لئے یہ بڑا چیلنج ہے ۔ بیماریوں سے بچاؤ کے لئے سماج کے ہر فرد کو کوشش کرنی ہوگی ۔نقل مکانی کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ بسنے والے خاندانوں کو خاص احتیاط برتنی ہوگی ۔اسی طرح روزانہ مزدور بھی اپنے بچوں کو مقرر وقت پر ٹیکے لگانے والے کیمپ پر نہیں لا پاتے انہیں اپنی دیہاڑی کھونے کا ڈر ہوتا ہے ۔ مشن اندر دھنش کے تحت ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ بچوں کو ٹیکوں کا کارڈ بھی دیا جائے گا تاکہ وہ دوسری جگہ منتقل ہونے کی صورت میں کارڈ کے مطابق بچہ کو بچے ہوئے ٹیکہ لگواسکیں ۔ملک کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر بچہ اور حاملہ عورت کو ٹیکے لگوائے جائیں ۔ بیماری سے حفاظت مالی تنگی سے بھی دور رکھتی ہے اسی لئے یہ بن گیا ہے امیدوں کا اندر دھنش ۔


उम्मीदों का इंद्रधनुष

मिशन इंद्रधनुष का दूसरा दौर इसी अक्टूबर में शुरू हो चुका है। पहली सफ़ में पैदल फ़ौजियों की मदद से ही कुछ अहम जंगें जीती जाती हैं। इस मुहिम की पहली सफ़ में सेहत की ख़िदमत-गार ख़वातीन आशा, आँगनवाड़ी कारकुनान और एएनएम वग़ैरा हैं जो बच्चों की टीका कारी कर टीका से रोकी जाने वाली बीमारियों से लड़ने में मदद कर रही हैं। गर्मी की तेज़ धूप हो या मानसून की तेज़ बारिश, सेहत की मुहाफ़िज़ कारकुनान दूर दराज़ इलाक़ों में जाकर ये यक़ीनी बनाती हैं कि हर बच्चे को ज़रूरी टीके लगें। वो मौसम से ही नहीं लड़तीं बल्कि नाख़वांदगी, जात-पात के भेद-भाव और मज़हब की दीवारें भी उनकी राह में रुकावटें बनती हैं।

अभी सूरत-ए-हाल ये है कि भारत में मुफ़्त टीका कारी होने के बावजूद हर बच्चे को टीका नहीं लग सका है। मामूल की टीका जकारी 65 फ़ीसद बच्चों को ही कौर कर सकी है। एक तख़मीना के मुताबिक़ 89 लाख बच्चे मामूल की टीका कारी प्रोग्राम (आरआई) के तहत एक या एक से ज़्यादा टीकों से महरूम हैं। खासतौर पर वो बच्चे जिनके वालिदैन ईंट के भट्टों और कंस्ट्रक्शन साइट्स पर काम करते हैं । उनके बच्चे लेबर हटमेंट्स में रहते हैं; उनके इलावा झुग्गी-झोंपड़ी, मिलियन बस्तियों, गाँव और आदिवासी आबादीयों में रहने वाले बच्चे भी मामूल की टीकाकारी प्रोग्राम में कौर नहीं हो पा रहे हैं। ऐसे तमाम तबक़ात की डेव लिस्ट तैयार की गई है जिन तक मामूल के टीके नहीं पहुंच पा रहे थे। मिशन इंद्रधनुष का मक़सद है 2020 तक बिना टीका लगे या एक-आध टीका लगे बच्चों को सभी 7 बीमारियों — टेटनस, पोलीयो, तपेदिक़, ख़सरा, हेपटाइटिस बी, काली खांसी और डिपथीरया — से बचाव के टीके लग सकें।

टीकाकारी का काम पल्स-पोलियो मुहिम की तरह नहीं होता जिसमें हैल्थ कारकुनान घर-घर जाकर पोलीयो की बूँद बच्चों को पिलाते हैं। मिशन इंद्रधनुष के तहत घर-घर जा कर टीका नहीं लगाया जाएगा। लेकिन डेव लिस्ट के मुताबिक़ छूटे हुए तबक़ात के इलाक़ों में टीकाकारी कैंप लगाया जाएगा ताकि हामिला औरतें और बच्चे अपने इलाक़ा में बनाए गए कैंप में जा कर टीका लगवा सकें। ये कैंप पर माह 7 से 14 यानी एक हफ़्ता के लिए लगाए जाऐंगे। ऐसे में पब्लिक हैल्थ कारकुनान मसला आशा, एएनएम और आंगनवाड़ी वर्करों का रोल ख़ास है क्योंकि वही बच्चों या माओं को कैंप तक आने के लिए हौसला-अफ़ज़ाई करती हैं। ये कहने में कोई मुबालग़ा नहीं होगा कि देही और महरूम तबक़ात तक सरकारी हिफ़्ज़ान-ए-सेहत की ख़िदमात पहुंचाने में आशा कारकुनों की ख़ुसूसी कोशिशें शामिल हैं। वो बच्चों की पैदाइश का रिकार्ड रखती हैं और माओं से मिलकर ये यक़ीनी बनाती हैं कि कोई बच्चा टीका कारी से छूट न जाये। इतना ही नहीं, वो टीकाकारी की अहमीयत लोगों को समझाते हुए उन्हें बताती हैं कि अगर वक़्त पर बच्चों को टीका न लगा तो किन-किन बीमारियों का ख़तरा बढ़ जाता है। दुनिया में हर मिनट 21 बच्चे बीमारियों से मरते हैं; साल में 1.1 करोड़, जिनमें से 70 फ़ीसद बच्चे टीका कारी से बचाए जा सकते हैं।

आशा की तरह ही एएनएम और आंगनवाड़ी कारकुनान भी पंचायत के मैंबरान, स्कूलों के असातिज़ा, मज़हबी शख़्सियात और समाज के बड़े बुज़ुर्गों के साथ मिलकर लोगों को टीकाकारी कैंप आने और अपने बच्चों को टीका लगवाने के लिए आमादा करते हैं। वो मुक़ामी होती हैं; इसी समाज में सब के साथ रहती हैं, इसलिए आम लोगों के साथ भरोसे-ओ-एतिमाद का जो ताल्लुक़ आशा और एएनएम कारकुनान बनाती हैं वो भारत में टीका कारी मुहिम की कामयाबी में इंतिहाई कारगर है। ये पब्लिक हैल्थ कारकुनान की बे-इंतिहा कोशिशें ही हैं कि मिशन इंद्रधनुष के तहत अब तक 75 लाख से ज़्यादा बच्चों को टीका लगाया जा चुका है और 19.7 लाख बच्चे मुकम्मल टीकाकारी से मुस्तफ़ीद हो चुके हैं। मिशन इंद्रधनुष के तहत ये मन्सूबा बनाया गया है कि टीकाकारी वरीज में हर साल 5 फ़ीसद का इज़ाफ़ा हो ताकि 5 सालों में टीका कारी के 90 फ़ीसद कवरेज का टार्गेट पूरा किया जा सके। अभी ये कवरेज 65.2 फ़ीसद है; 35 फ़ीसद बच्चे ऐसे हैं जिन्हें सारे टीके नहीं लग पाते या एक भी टीका नहीं लग पाता।

इस मिशन की कामयाबी के लिए आशा और एएनएम को ख़ुसूसी तर्बीयत दी गई है ताकि वो पोलियो समेत 7 बीमारियों से बचाव के टीके लगा सकें। वहीं हामिला ख़वातीन को टेटनस के टीके दे सकें। मिशन को कामयाब बनाने के लिए लेबर डिपार्टमैंट और शोबा तालीम की भी मदद ली जा रही है ताकि कंस्ट्रक्शन साइटों पर मज़दूरों के बच्चों की टीकाकारी आसानी से हो सके। मिशन इंद्रधनुष के तहत टीकाकारी मुहिम 4 माह तक जारी रहेगी; इस मुहिम को कारगर बनाने के लिए शहरी-ओ-देही इलाक़ों के लिए अलग-अलग मन्सूबे साज़ी की गई है; अक्टूबर की 13 तारीख़ के बाद दीवाली की वजह से टीका 4 से 10 नवंबर तक लगाए जाऐंगे। वहीं दिसंबर और जनवरी में ये मुहिम 7 से १३ तारीख़ को चलाई जाएगी। हर ज़िले में ज़िला स्वस्थ्य अधिकारी को इस मुहिम के कामयाब बनाने की ज़िम्मेदारी सौंपी गई है।

देश के 184 अज़ला में हिफ़्ज़ान-ए-सेहत की सहूलयात की हालत बेहद ख़राब है। भारत दुनिया के इन पसमांदा मुमालिक में शामिल है जहां ज़च्चा-बच्चा अम्वात की दर ज़्यादा है। WHO की रिपोर्ट के मुताबिक़ यहाँ एक लाख ख़वातीन में से 190 मुआमलों में ज़च्चे या बच्चे की मौत हो जाती है। जबकि पाकिस्तान और श्रीलंका में ये आंकड़ा 170 है । सेहत से मुताल्लिक़ अफ़सोसनाक वाक़ियात की वजह से लोग मआशी तौर पर कमज़ोर हो जाते हैं क्योंकि कोई भी अपने अज़ीज़ों को बग़ैर इलाज के मरता हुआ नहीं देख सकता। मिशन इंद्रधनुष दुनिया की सबसे बड़ी टीकाकारी मुहिम है। वज़ीर-ए-आज़म नरेंद्र मोदी ने इस मुहिम का इफ़्तिताह करते वक़्त ये उम्मीद ज़ाहिर की थी कि इस मुहिम के ज़रीए भारत को माँ और नौ मौलूद को होने वाले टेटनस से आज़ाद मुल्क बनाया जा सकेगा। उन्होंने कहा था कि मिशन इंद्रधनुष ज़च्चा बच्चा अम्वात दर को भी कम करने में मददगार साबित होगा।

बहरहाल मिशन इंद्रधनुष के तहत कई बीमारियों से बचाव के लिए वक़्त-वक़्त पर टीके लगाए जाते हैं जिसके लिए एक मुक़र्रर वक़्त तक निगरानी ज़रूरी है। लिहाज़ा आशा, एएनएम और आंगनवाड़ी कारकुनान के लिए ये बड़ा चैलेंज है। बीमारियों से बचाव के लिए समाज के हर फ़र्द को कोशिश करनी होगी। नक़्ल-ए-मकानी की वजह से एक जगह से दूसरी जगह बसने वाले ख़ानदानों को ख़ास एहतियात बरतनी होगी। इसी तरह रोज़ाना मज़दूर भी अपने बच्चों को मुक़र्रर वक़्त पर टीके लगाने वाले कैंप पर नहीं ला पाते; उन्हें अपनी दिहाड़ी खोने का डर होता है। मिशन इंद्रधनुष के तहत इन मसाइल को हल करने की कोशिश की गई है। बच्चों को टीकों का कार्ड भी दिया जाएगा ताकि वो दूसरी जगह मुंतक़िल होने की सूरत में कार्ड के मुताबिक़ बच्चे को बचे हुए टीका लगवा सकें। मुल्क को बीमारियों से महफ़ूज़ रखने के लिए ज़रूरी है कि हर बच्चा और हामिला औरत को टीके लगवाए जाएँ। बीमारी से हिफ़ाज़त माली तंगी से भी दूर रखती है, इसीलिए ये बन गया है उम्मीदों का इंद्रधनुष।

उद्घाटन के रोज़
उद्घाटन के रोज़
Previous articleEvenhandedness Is Key
Next articleCommunicate, Please
Muzaffar Husain Ghazali
Lawyer by training, associate editor at Daily Urdu Net and editor at UNN India

Get in Touch

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
spot_img

Related Articles

Editorial

Get in Touch

7,493FansLike
2,452FollowersFollow
0SubscribersSubscribe

Columns

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x
[prisna-google-website-translator]
%d bloggers like this: