Saturday 21 May 2022
- Advertisement -

ملک کی ترقی میں بہار کہاں؟ / मुल्क की तरक़्क़ी में बिहार कहाँ?

Join Sirf News on

and/or


بہار میں انتخابی پر و جاری ہے ۔ بہار کے لوگ امید اور نا امیدی کے ساتھ اس میں شامل ہیں ۔پچھلی دہائیوں میں بہار کئی اتار چڑھاؤ دیکھ چکا ہے نسل کش فسادات اور نکسلواد سے گزرا ہے اور ریاست کی تقسیم کا درد بھی سہا ہے ۔اس کی خراب حالت کی وجہ صرف منڈل کمنڈل یا بد انتظامی و بد عنوانی نہیں بلکہ اصل وجہ راج نیتی ہے ۔ جس میں راج زیادہ اور نیتی کافی کم رہی ہے جو ترقی کے لئے ضروری تھی ۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی در دشا کے لئے کوئی ایک پارٹی ذمہ دارہے بہار کی پسماندگی میں کم یا زیادہ سبھی پارٹیوں کا ہاتھ رہا ہے ۔

چار دہائیوں تک اس کے پیچھے کانگریس تھی ۔ 1990میں جنتا دل نے کانگریس کو باہر کا راستہ دکھایا ۔ اسکے بعد 15 سال بہار لالو کے خاندان کے حوالے رہا ۔ پچھلے دس سالوں سے نتیش کمار پہلے بی جے پی کے ساتھ پھر اکیلے سرکار چلا رہے ہیں ۔
پہلی مرتبہ 1991-92میں ایک سروے کے دوران مجھے بہار کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ اس وقت کتنے ہی گاؤں ایسے تھے جہاں نہ سڑک تھی نہ سواری ۔تین چار کلو میٹر تک جانے کے لئے سائیکل رکشا واحد ذریعہ تھا اور کہیں کہیں یہ بھی نہیں تھا رکشہ کو دو تین کلو میٹر جانے کے لئے دس سے پندرہ روپے دینا ہوتا تھا ۔ لگن کے زمانے میں رکشا ملنا بھی مشکل تھا کئی ٹاؤن ایریا ایسے تھے جہاں دن بھر میں ایک بس جاتی اور وہی واپس آتی تھی ۔ پہلی بار میں نے عورتوں کو بغیر بلاؤز و پیٹی لوٹ کے ساڑی میں دیکھا تھا و ہاں ہر چیز میری سوچ و تصور سے الگ تھی ۔ لیا کھان پان ۔ کیا رہن سہن ، کیا اسکول کالج کیا مدرسے کیا راستے ۔وہاں دو طبقے تھے اور ان میں واضح فرق نظر آتا تھا ایک وہ جس کے پاس کھانے پینے سے لیکر ہر چیز کی فراوانی تھی اور دوسرا وہ جس کے پاس زندگی گزارنے کے لئے جتنا ضروری ہوتا ہے وہ بھی میسر نہیں تھا ۔انتہائی معمولی آمدنی میں کس طرح گزارہ کیا جا سکتا ہے یہ دیکھنے کو ملا ۔

دوبارہ 2009-10میں بہار جانے کا اتفاق ہوا ۔اس وقت بہت بنیادی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں ۔ گاؤں میں سڑک پہنچ چکی تھی قومی ور یاستی ہائی وے اچھے بن گئے تھے اور بنائے جا رہے تھے ۔چھوٹے شہروں و قصبات تک آنے جانے کی دقتیں دور چو کی تھیں انفراسٹکچر میں کافی ترقی ہوئی تھی 2015کے سڑکوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریاست میں سڑکوں کا جال پھیل چکا ہے قومی شاہراہ 4594.88کلو میٹر ریاستی ہائیوے 4253.31کلومیٹر بڑے اضلاع میں روڑ 10633.87کلو میٹر گاؤں کی سڑکیں 36520.63کلومیٹر اور6898پل اور فلائی اور عوام کی خدمت کررہے ہیں ۔غریبوں و دلتوں کے لئے سرکار مکانات فراہم کرنے کی کوشش کررہی تھی اسکولوں کی عمارتیں تعمیر کئی جا رہی تھیں ریاست کا نظم و نسق بھی بہت بہتر ہوا تھا اسکولوں و مدارس میں بچوں کے اندراج میں اضافہ ہو رہا تھا ۔سیلانیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ مثال کے طور پر 2005میں ملک و بیرون ملک کے 6944006سیاح بہار آئے جبکہ 2014میں یہ تعداد 2,33,73,845تک پہنچ گئی ۔اسکولوں کی تعداد 2010-11میں 69379تھی جو کہ 2014-15میں 76596ہو گئی ۔اسی طرح اساتذہ 2010-11میں تین لاکھ چوالس ہزار تھے جو 2014-15میں چار لاکھ انیس ہزار چھ سو اکتیس ہو گئے ۔اس دوران سرکار نے اسکولوں میں بیت الخلاء اور پینے کے صاف پانی پر بھی خصوصی توجہ دی ۔2010-11میں 45فیصد اسکولوں میں مخلوط بیت الخلاء اور لڑکیوں کے 64فیصد اسکولوں میں الگ بیت الخلاء مہیا کرائے گئے تھے جبکہ 2014-15 میں یہ تعداد بڑھ کر 66فیصد مخلوط لڑکیوں کے 70.2فیصد الگ بیت الخلاء ہو گئے ۔ آج 92.3فیصد اسکولوں میں پینے کا صاف پانی موجود ہے ۔

بہار کے معاشی ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے بلا شبہ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہاں وسائل کی انتہائی کمی ہے اور اسے مشکلوں سے نکالنے کے لئے لگاتار مالی مدد کی ضرورت ہے ۔ نتیش کمار بار بار بہار کو خصوصی درجہ دےئے جانے کی مانگ بھی شاید اسی لئے کرتے رہے ہیں تاکہ وہ عام لوگوں کی معیار زندگی کو بہتر بنا سکیں ۔بہار میں جس کا اقتدار ہوتا ہے وہ پورے نظام پر قبضہ کر لیتا ہے یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بے حد منظم ڈھنگ سے قانون کو انتظامیہ سے الگ کر دیا گیا ہے ۔قانون کی حکمرانی اس بات پر منحصر ہے کہ سرکار کس کی ہے ۔اقتدار میں رہنے والوں کو انتخابی مفادات کی فکر رہتی ہے اسی بنیاد پر وہ وسائل کی تقسیم کرتے ہیں ۔ عوام کو با اختیار بنانے کء پروگرام اپنے ووٹ بنک کو فائدہ پہچانے تک محدود ہو کر رہ گئے لیکن نتیش کمار نے اس حالت کو بدلنے کی کوشش کی اور سماج کے تمام طبقات کو سرکار سے جوڑنے اور با ختیار بنانے کی کوشش کی ہے چاہے وہ او بی سی لسٹ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے کیا ہو یا دلت و مہا دلت کی زمرہ بندی کرکے اس سے فائدہ عوام ہی کا ہوا ہے ۔

ملک میں سماجی و معاشی لحاظ سے پسماندہ سو اضلاع کی فہرست میں بہار کے 38میں سے 26اضلاع شامل ہیں ۔94,163مربع کلو میٹر میں پھیلے بہار کی آبادی تقریبا 11کروڑ 40لاکھ ہے ۔36143روپے کے ساتھ اس کی فی کس آمدنی سبھی ریاستوں میں سب سے کم ہے اس موٹے اندازے پر غور کرکے دیکھئے بھارت کی تقریبا دس فیصد آبادی قومی اوسط کے آدھے سے بھی کم فی کس آمدنی پر زندگی بتانے پر مجبور ہے ۔ ان اعداد و شمار کو اور گہرائی سے پرکھتے ہیں ۔

پٹنہ میں فی کس آمدنی 63063روپے ہے جبکہ مدھے پورہ (8069 روپے) سپول(8492روپے) اور شیہور (7092روپے) جیسے انتہائی پسماندہ اضلاع میں فی کس آمدنی پٹنہ کے دسویں حصہ سے بھی کم ہے ۔ایسے میں ظاہر ہے کہ بہار کا ہر تیسرا شخص غیریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔وزیر خزانہ ارن جیٹلی کے ذریعہ جاری کردہ سماجی و معاشی اعداد و شمار کے مطابق دیہی آبادی گھنگھور غریبی میں زندگی گزارنے کو مجبور ہے ۔حالت یہ ہے کہ دیہی بھارت کے تین چوتھائی (75فیصد) خاندان آج بھی پانچ ہزار روپے مہینہ سے بھی کم آمدنی پر گزارہ کرنے کو مجبور ہیں ۔دس ہزار روپے مہینے سے زیادہ آمدنی والے خاندان 8فیصد ہی ہیں سماجی معاشی و ذات کی بنیاد پر کی گئی مردم شماری کے تازہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ غریبی کی سب سے زیادہ مار مغربی بھارت کے بہار ،جھار کھنڈ ، مغربی بنگال اور اڑیسہ کے دیہی علاقوں میں رہنے والے جھیل رہے ہیں ۔جبکہ آب پاشی کی بہتر سہولیات والے شمالی بھارت کے دیہی علاقوں کی حالت کچھ بہتر ہے ۔یہاں پانچ ہزار سے کم ماہانہ آمدنی والے خاندان لگ بھگ 60فیصد ہیں۔ اسی طرح سیدھے مرکز کے تحت آنے والے دہلی ، چنڈی گڑھ کے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ زیادہ خوشحال کہے جا سکتے ہیں ۔ویسے یہاں بھی 35فیصد خاندان ایسے ہیں جو پانچ ہزار سے کم کی ماہانہ آمدنی پر گزارہ کرتے ہیں ۔

مشہور نالندہ یونیورسٹی کے ساتھ کبھی تعلیم کا مرکز رہے بہار میں خاندگی کی شرح 2011میں 61.8تھی جو 2014-15میں 63.8درج کی گئی ہے ۔یہاں 73.4فیصد مرد اور 53.3فیصد خواتین خواندہ ہیں ۔ یہ قومی شرح خواندگی سے تھوڑی ہی کم ہے نتیش کمار نے لڑکیوں کو سائیکل دیکر اور ان کے لئے الگ بیت الخلاء کا انتظام کرکے انہیں تعلیم کی طرف راغب کیا ہے 2005-6میں اسکولوں میں درجہ ایک سے بارہ تک میں اندراج 1,33.97041تھا جس میں سے 99.2فیصد سرکاری اسکولوں میں اور لڑکیاں 43.5فیصد تھیں ۔2014-15میں یہ تعداد بڑھ کر 2کروڑ بارہ لاکھ 38ہزار 9سو 57ہو گئی ۔ 93.5فیصد اور لڑکیاں 49.8فیصد ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لڑکیوں کا پڑھائی کی طرف رجحان بڑھا ہے ۔ پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کی 2015کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت میں اسکول چھوڑنے والا ہر پانچواں بچہ بہار کا ہے اس طرف اگلی سرکار کو خصوصی توجہ دینی ہوگی ۔

کبھی بہار میں زچہ بچہ اموات اور غذائیت کی کمی کی حالت افریقی ممالک جیسی تھی پچھلے دس سالوں میں سرکار نے اس طرف خاص دھیان دیا ہے ۔

ان حالات کو بدلنے میں یونیسیف whoاور حفظان صحت کی دوسری تنظیموں نے سرکار کے ساتھ مل کر بہت محنت کی ہے ۔ 2005میں نو مولودوں کی شرح اموات ۔سات دن تک کے ایک ہزار بچوں پر 27اور آٹھ سے 27دن تک کے ایک ہزا ر پر 5تھی جبکہ اس وقت 28دن تک کے بچوں کی قومی شرح 32تھی ۔2015میں یہ شرح گھٹ کر 24اور4ہو گئی ۔اس وقت قومی شرح28ہے ۔یعنی قومی شرح کے برابر ۔ اسی طرح 2005میں ایک سال کے اندر مرنے والے بچوں کا تناسب 60اور پانچ سال کے اندر کا 75تھا ۔2015میں یہ تناسب 43اور 57ہو گیا ہے ۔ زچگی کے دوران مرنے والی خواتین کی شرح میں بھی کافی گراوٹ آئی ہے ۔ 2005میں ایک لاکھ میں سے 312حاملہ عورتیں بچہ کی پیدائش کے وقت مر جاتی تھیں 2015میں یہ تعداد 219رہ گئی ۔معمول کے ٹیکہ لگانے کی طرف بھی کافی توجہ دی گئی ہے ۔ 2005میں ضلاع اسپتالوں کی تعداد 24تھی جو اب 36ہے ۔ریفرل اسپتال 37اور سب ڈیوژنل اسپتال 38ہیں ۔ پرائمری ہیلتھ سینٹر 533سب سینٹر 9696اور 1330اضافی پرائمری سینٹر کام کررہے ہیں ۔

یہاں کی محض 11.29فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے جبکہ 88.71فیصدلوگ گاؤں میں ہی گزر بسر کررہے ہیں ۔سماجی معاشی مردم شماری کے اعداد شمار بتاتے ہیں کہ 65فیصد دیہی خاندانوں کے پاس اپنی زمین نہیں ہے بغیر زمین والا یہاں کا ہر دوسرا شخص چھٹ پٹ مزدوری کرنے کو مجبور ہے یہی لوگ ، پنجاب کے بڑے کسانوں کے کھیتوں اور بڑے شہروں میں مزدوری کا کام کرتے تھے ۔ پچھلے دس سالوں میں بہار سے باہر جا کر کام کرنے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔کیونکہ اس دوران مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھے ہیں ۔پہلے محض 6فیصد خاندان ہی ایسے تھے جہاں کوئی نوکری کررہا ہو یہ حالت بھی اس دوران بدلی ہے ۔ہنر مندی میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن ٹیکس دینے والوں کی تعداد ابھی بھی سو پر صرف 2ہی ہے ۔

بہار انتظامیہ میں بھی بہتری آئی ہے نکسلواد کم ہوا ہے بڑے شہروں میں لڑکیوں و خواتین دیر رات میں رکشا سے اکیلے ایک جگہ سے دوسری جگہ آ جا سکتی ہیں جرائم میں بھی کمی آئی ہے ۔ چھوٹے موٹے واقعات کو چھوڑ دیں تو بہار میں بڑے واقعات نہ کے برابر ہوئے ہیں ۔ اور نتیش کمار کے ساتھ ریاست بہتری کی طرف بڑھی ہے البتہ نتیش کمار کے بے جے پی کے ساتھ چھوڑنے کے بعد بہار میں ماحول کو خراب کرنے کی کوششیں برا بر ہوتی رہی ہیں الیکشن کے دوران پہلے بی جے پی کو نا م نہاد جھوٹے ترقی کے پروپیگنڈے پر کامیابی کا بھروسہ تھا پھر مودی کی ریلیوں پر ، جب یہ دونوں وہاں نہیں چلے تو بی جے پی گائے اور مسلمانوں کو ریزرویشن دےئے جانے پر آگئی اور آخر میں پاکستان کو اپنے پروپیگنڈے میں لے آئی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی فرقہ پرستی کے بغیر کوئی الیکشن نہیں لڑ سکتی ۔

خیر بہار کے الیکشن کانتیجہ جو بھی ہو اتنا تو واضح ہے کہ نتیش کمار نے عوام میں یہ احساس پیدا کردیا ہے کہ ریاست کی ترقی ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے انڈسٹری کے بغیر اور کم وسائل کے با وجود بہار کو ڈیولپمنٹ کا نظارہ کرایا ہے ۔ آج بہار کے ہر شخص میں یہ اعتماد ہے کہ ایک دن یہ پسماندہ کہی جانے والی ریاست خوشحال ریاستوں کے برابر ضرور آئے گی یہ اعتماد اور امید ہی ریاست کو آگے لے جانے کے لئے عوام کو صحیح فیصلہ لینے میں مدد کریگا ۔


 

बिहार में इंतख़ाबी पर्व जारी है। बिहार के लोग उम्मीद और ना-उमीदी के साथ इस में शामिल हैं। पिछली दहाइयों में बिहार कई उतार-चढ़ाव देख चुका है; नसल कश फ़सादात और नक्सलवाद से गुज़रा है और रियासत की तक़सीम का दर्द भी सहा है। इस की ख़राब हालत की वजह सिर्फ मंडल-कमंडल या बदइंतिज़ामी-ओ-बदउनवानी नहीं, बल्कि असल वजह राजनीति है। जिसमें राज ज़्यादा और नीति काफ़ी कम रही है, जो तरक़्क़ी के लिए ज़रूरी थी। ये भी नहीं कहा जा सकता कि इस की दुर्दशा के लिए कोई एक पार्टी ज़िम्मेदार है; बिहार की पसमांदगी में कम या ज़्यादा सभी पार्टियों का हाथ रहा है।

चार दहाइयों तक उस के पीछे कांग्रेस थी। 1990 में जनता दल ने कांग्रेस को बाहर का रास्ता दिखाया। इसके बाद 15 साल बिहार लालू के ख़ानदान के हवाले रहा। पिछले 10 सालों से नीतीश कुमार पहले बीजेपी के साथ, फिर अकेले सरकार चला रहे हैं।

पहली मर्तबा 1991-92 में एक सर्वे के दौरान मुझे बिहार को क़रीब से देखने का मौक़ा मिला। उस वक़्त कितने ही गांव ऐसे थे जहां ना सड़क थी न सवारी। तीन-चार किलोमीटर तक जाने के लिए साइकल रिक्शा वाहिद ज़रिया था और कहीं-कहीं ये भी नहीं था; रिक्शे को 2-3 किलोमीटर जाने के लिए 10 से 15 रुपये देना होता था। लग्न के ज़माने में रिक्शा मिलना भी मुश्किल था; कई टाउन एरिया ऐसे थे जहां दिन-भर में एक बस जाती और वही वापस आती थी। पहली बार मैंने औरतों को बग़ैर ब्लाउज़-ओ-पेटीकोट के साड़ी में देखा था; और हाँ, हर चीज़ मेरी सोच-ओ-तसव्वुर से अलग थी। क्या खान-पान, क्या रहन-सहन, क्या स्कूल-कॉलेज, क्या मदरसे, क्या रास्ते! वहां दो तबक़े थे और उनमें वाज़िह फ़र्क़ नज़र आता था एक वो जिसके पास खाने पीने से लेकर हर चीज़ की फ़रावानी थी और दूसरा वो जिसके पास ज़िंदगी गुज़ारने के लिए जितना ज़रूरी होता है वो भी मयस्सर नहीं था। इंतिहाई मामूली आमदनी में किस तरह गुज़ारा किया जा सकता है ये देखने को मिला।

दोबारा 2009-10 में बिहार जाने का इत्तिफ़ाक़ हुआ। इस वक़्त बहुत बुनियादी तबदीलियां देखने को मिलीं। गांव में सड़क पहुंच चुकी थी; क़ौमी व रियासती हाइवे अच्छे बन गए थे और बनाए जा रहे थे। छोटे शहरों-ओ-क़स्बात तक आने-जाने की दिक्कतें दूर चुकी थीं; इनफ्रास्टक्चर में काफ़ी तरक़्क़ी हुई थी। 2015 के सड़कों के आदाद-ओ-शुमार बताते हैं कि रियासत में सड़कों का जाल फैल चुका है; क़ौमी शाहराह 4594.88 किलोमीटर रियासती हाइवे 4253.31 किलोमीटर, बड़े अज़ला में रोड 10633.87 किलोमीटर; गांव की सड़कें 36520.63 किलोमीटर और 6898 पुल और फ़्लाइओवर और अवाम की ख़िदमत कर रहे हैं। ग़रीबों-ओ-दलितों के लिए सरकार मकानात फ़राहम करने की कोशिश कर रही थी; स्कूलों की इमारतें तामीर कई जा रही थीं; रियासत का नज़म-ओ-नसक़ भी बहुत बेहतर हुआ था; स्कूलों-ओ-मदारिस में बच्चों के इंदिराज में इज़ाफ़ा हो रहा था।

सैलानियों की तादाद में ग़ैर-मामूली इज़ाफ़ा हुआ है। मिसाल के तौर पर 2005 में मुल्क-ओ-बैरून-ए-मुल्क के 6944006 सय्याह बिहार आए जबकि 2014 में ये तादाद 2,33,73,845 तक पहुंच गई।

स्कूलों की तादाद 2010-11 में 69379 थी जो कि 2014-15 में 76596 हो गई। इसी तरह असातिज़ा 2010-11 में 3,44,000 थे जो 2014-15 में 4,19,631 हो गए। इस दौरान सरकार ने स्कूलों में बैत उल-खुला और पीने के साफ़ पानी पर भी ख़ुसूसी तवज्जो दी। 2010-11 में 45 फ़ीसद स्कूलों में मख़लूत बैत उल-खुला और लड़कियों के 64 फ़ीसद स्कूलों में अलग बैत उल-ख़ला मुहय्या कराए गए थे जबकि 2014-15 में ये तादाद बढ़कर 66 फ़ीसद मख़लूत लड़कीयों के 70.2 फ़ीसद अलग बैत उल-खुला हो गए। आज 92.3 फ़ीसद स्कूलों में पीने का साफ़ पानी मौजूद है।

बिहार के मआशी ढाँचे को देखते हुए बिला-शुबा ये समझा जा सकता है कि यहां वसाइल की इंतिहाई कमी है और उसे मुश्किलों से निकालने के लिए लगातार माली मदद की ज़रूरत है। नीतीश कुमार बार-बार बिहार को ख़ुसूसी दर्जा दिए जाने की मांग भी शायद इसीलिए करते रहे हैं ताकि वो आम लोगों की मियार-ए-ज़िंदगी को बेहतर बना सकें। बिहार में जिसका इक़तिदार होता है वो पूरे निज़ाम पर क़बज़ा कर लेता है; यहां का सबसे बड़ा मसला ये है कि बेहद मुनज़्ज़म ढंग से क़ानून को इंतिज़ामीया से अलग कर दिया गया है। क़ानून की हुक्मरानी इस बात पर मुनहसिर है कि सरकार किस की है। इक़तिदार में रहने वालों को इंतिख़ाबी मुफ़ादात की फ़िक्र रहती है; उसी बुनियाद पर वो वसाइल की तक़सीम करते हैं। अवाम को बाइख़तियार बनाने के प्रोग्राम अपने वोट बैंक को फ़ायदा पहचाने तक महदूद हो कर रह गए, लेकिन नीतीश कुमार ने इस हालत को बदलने की कोशिश की और समाज के तमाम तबक़ात को सरकार से जोड़ने और ब-इख़्तियार बनाने की कोशिश की है चाहे वो ओ बी सी लिस्ट को दो हिस्सों में तक़सीम करके किया हो या दलित-ओ-महादलित की ज़मुरा बंदी करके इस से फ़ायदा अवाम ही का हुआ है।

मुल्क में समाजी-ओ-मआशी लिहाज़ से पसमांदा सौ अज़ला की फ़हरिस्त में बिहार के 38 में से 26 अज़ला शामिल हैं। 94,163 मुरब्बा किलोमीटर में फैले बिहार की आबादी तक़रीबन 11 करोड़ 40 लाख है। 36143 रुपये के साथ उस की फ़ी कस आमदनी सभी रियास्तों में सबसे कम है; इस मोटे अंदाज़े पर ग़ौर करके देखिए भारत की तक़रीबन दस फ़ीसद आबादी क़ौमी औसत के आधे से भी कम फ़ी कस आमदनी पर ज़िंदगी बिताने पर मजबूर है। इन आदाद-ओ-शुमार को और गहराई से परखते हैं।

पटना में फ़ी कस आमदनी 63063 रुपये है जबकि मध्य पूरा (8069 रुपये) सुपौल (8492 रुपये) और शीहोर (7092 रुपये) जैसे इंतिहाई पसमांदा अज़ला में फ़ी कस आमदनी पटना के दसवें हिस्से से भी कम है। ऐसे में ज़ाहिर है कि बिहार का हर तीसरा शख़्स ग़रीबी की सतह से नीचे ज़िंदगी गुज़ार रहा है।

वज़ीर-ए-ख़ज़ाना अरुण जेटली के ज़रीए जारी करदा समाजी-ओ-मआशी आदाद-ओ-शुमार के मुताबिक़ देही आबादी घनघोर ग़रीबी में ज़िंदगी गुज़ारने को मजबूर है। हालत ये है कि देही भारत के तीन चौथाई (75 फ़ीसद) ख़ानदान आज भी 5,000 रुपये महीना से भी कम आमदनी पर गुज़ारा करने को मजबूर हैं। रु 10,000 महीने से ज़्यादा आमदनी वाले ख़ानदान 8 फ़ीसद ही हैं।

समाजी मआशी-ओ-ज़ात की बुनियाद पर की गई मर्दुम-शुमारी के ताज़ा आदादो शुमार बताते हैं कि ग़रीबी की सबसे ज़्यादा मार मग़रिबी भारत के बिहार, झारखंड, मग़रिबी बंगाल और उड़ीसा के देही इलाक़ों में रहने वाले झेल रहे हैं। जबकि आब-ए-पाशी की बेहतर सहूलयात वाले शुमाली भारत के देही इलाक़ों की हालत कुछ बेहतर है। यहां 5,000 रुपये से कम माहाना आमदनी वाले ख़ानदान लग भग 60 फ़ीसद हैं। इसी तरह सीधे मर्कज़ के तहत आने वाले दिल्ली, चंडीगढ़ के देही इलाक़ों में रहने वाले लोग ज़्यादा ख़ुशहाल कहे जा सकते हैं। वैसे यहां भी 35 फ़ीसद ख़ानदान ऐसे हैं जो 5,000 रुपये से कम की माहाना आमदनी परगुज़ारा करते हैं।

मशहूर नालंदा यूनीवर्सिटी के साथ कभी तालीम का मर्कज़ रहे बिहार में ख़ानदगी की शरह 2011 में 61.8 थी जो 2014-15 में 63.8 दर्ज की गई है। यहां 73.4 फ़ीसद मर्द और 53.3 फ़ीसद ख़वातीन ख़वांदा हैं। ये क़ौमी शरह ख़वांदगी से थोड़ी ही कम है। नीतीश कुमार ने लड़कियों को साईकल देकर और उनके लिए अलग बैत उल-खुला का इंतिज़ाम करके उन्हें तालीम की तरफ़ राग़िब किया है। 2005-6 में स्कूलों में दर्जा एक से बारह तक में इंदिराज 1,33.97041 था जिसमें से 99.2 फ़ीसद सरकारी स्कूलों में और लड़कीयां 43.5 फ़ीसद थीं। 2014-15 में ये तादाद बढ़कर 2,12,38,957। 93.5 फ़ीसद और लडकियाँ 49.8 फ़ीसद। इस से अंदाज़ा होता है कि लड़कियों का पढ़ाई की तरफ़ रुझान बढ़ा है। पार्लमेंट की मुस्तक़िल कमेटी की 2015 की रिपोर्ट बताती है कि भारत में स्कूल छोड़ने वाला हर पांचवां बच्चा बिहार का है; इस तरफ़ अगली सरकार को ख़ुसूसी तवज्जो देनी होगी।

कभी बिहार में ज़च्चा-बच्चा अम्वात और ग़िजाइयत की कमी की हालत अफ़्रीक़ी मुमालिक जैसी थी; पिछले 10 सालों में सरकार ने इस तरफ़ ख़ास ध्यान दिया है ।

इन हालात को बदलने में यूनीसेफ़-WHO और हिफ़्ज़ान-ए-सेहत की दूसरी तन्ज़ीमों ने सरकार के साथ मिलकर बहुत मेहनत की है। 2005 में नौ मौलूदों की शरह अम्वात। सात दिन तक के एक हज़ार बच्चों पर 27 और 8 से 27 दिन तक के एक 1,000 पर 5 थी जबकि उस वक़्त 28 दिन तक के बच्चों की क़ौमी शरह 32 थी। 2015 में ये शरह घट कर 24 और 4 हो गई। इस वक़्त क़ौमी शरह 28 है यानी क़ौमी शरह के बराबर । इसी तरह 2005 में एक साल के अंदर मरने वाले बच्चों का तनासुब 60 और 5 साल के अंदर का 75 था। 2015 में ये तनासुब 43 और 57 हो गया है। ज़चगी के दौरान मरने वाली ख़वातीन की शरह में भी काफ़ी गिरावट आई है। 2005 में एक लाख में से 312 हामिला औरतें बच्चे की पैदाइश के वक़्त मर जाती थीं; 2015 में ये तादाद 219 रह गई है। मामूल के टीका लगाने की तरफ़ भी काफ़ी तवज्जे दी गई है। 2005 में ज़िला अस्पतालों की तादाद 24 थी जो अब 36 है। रेफ़रल अस्पताल 37 और सब डिविज़नल अस्पताल 38 हैं। प्राइमरी हैल्थ सैंटर 533, सब सेंटर 9696 और 1330 इज़ाफ़ी प्राइमरी सैंटर काम कर रहे हैं।

यहां की महज़ 11.29 फ़ीसद आबादी शहरों में रहती है जबकि 88.71 फ़ीसद लोग गांव में ही गुज़र-बसर कर रहे हैं। समाजी मआशी मर्दुम-शुमारी के आदाद शुमार बताते हैं कि 65 फ़ीसद देही ख़ानदानों के पास अपनी ज़मीन नहीं है; बग़ैर ज़मीन वाला यहां का हर दूसरा शख़्स छट पुट मज़दूरी करने को मजबूर है; यही लोग पंजाब के बड़े किसानों के खेतों और बड़े शहरों में मज़दूरी का काम करते थे। पिछले 10 सालों में बिहार से बाहर जा कर काम करने वालों की तादाद में कमी आई है क्योंकि इस दौरान मुक़ामी सतह पर रोज़गार के मवाक़े बढ़े हैं। पहले महज़ 6 फ़ीसद ख़ानदान ही ऐसे थे जहां कोई नौकरी कर रहा हो; ये हालत भी इस दौरान बदली है। हुनरमंदी में भी इज़ाफ़ा हुआ है, लेकिन टैक्स देने वालों की तादाद अभी भी 100 पर सिर्फ 2 ही है।

बिहार इंतज़ामीया में भी बेहतरी आई है। नक्सलवाद कम हुआ है; बड़े शहरों में लड़कियों-ओ-ख़वातीन देर रात में रिक्शा से अकेले एक जगह से दूसरी जगह आ-जा सकती हैं। जराइम में भी कमी आई है; छोटे-मोटे वाक़ियात को छोड़ दें तो बिहार में बड़े वाक़ियात न के बराबर हुए हैं और नीतीश कुमार के साथ रियासत बेहतरी की तरफ़ बढ़ी है। अलबत्ता कुमार के बीजेपी के साथ छोड़ने के बाद बिहार में माहौल को ख़राब करने की कोशिशें बराबर होती रही हैं। इलेक्शन के दौरान पहले बीजेपी को नाम निहाद झूटे तरक़्क़ी के प्रोपेगंडे पर कामयाबी का भरोसा था; फिर मोदी की रैलीयों पर जब ये दोनों वहां नहीं चले तो बीजेपी गाय और मुसलमानों को रिज़र्वेशन दिए जाने पर आ गई और आख़िर में पाकिस्तान को अपने प्रोपेगंडे में ले आई। सवाल ये है कि क्या बीजेपी फ़िर्कापरस्ती के बग़ैर कोई इलेक्शन नहीं लड़ सकती।

ख़ैर, बिहार के इलेक्शन का नतीजा जो भी हो, इतना तो वाज़िह है कि नीतीश कुमार ने अवाम में ये एहसास पैदा कर दिया है कि रियासत की तरक़्क़ी हो सकती है। उन्होंने इंडस्ट्री के बग़ैर और कम वसाइल के बावजूद बिहार को डिवेलपमेंट का नज़ारा कराया है। आज बिहार के हर शख़्स में ये एतिमाद है कि एक दिन ये पसमांदा कही जाने वाली रियासत ख़ुशहाल रियासतों के बराबर ज़रूर आएगी। ये एतिमाद और उम्मीद ही रियासत को आगे ले जाने के लिए अवाम को सही फ़ैसला लेने में मदद करेगा।

Join Sirf News on

and/or

Muzaffar Husain Ghazali
Muzaffar Husain Ghazali
Lawyer by training, associate editor at Daily Urdu Net and editor at UNN India

Similar Articles

Comments

Contribute to our cause

Sirf News needs to recruit journalists in large numbers to increase the volume of its reports and articles to at least 100 a day, which will make us mainstream, which is necessary to challenge the anti-India discourse by established media houses. Besides there are monthly liabilities like the subscription fees of news agencies, the cost of a dedicated server, office maintenance, marketing expenses, etc. Donation is our only source of income. Please serve the cause of the nation by donating generously.

Or scan to donate

Swadharma QR Code
Advertisment
Sirf News Facebook Page QR Code
Facebook page of Sirf News: Scan to like and follow

Most Popular

[prisna-google-website-translator]
%d bloggers like this: