بابری مسجد کی شہادت اور ملک میں خونی فسادات سے 1947 کی ایک جھلک سامنے آئی ۔مسلمان مایوسی ، لاچاری اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا ہو گیا ۔ٹرینوں میں ٹوپی کرتے اور ڈاڑھی والوں کو عجب نظروں سے دیکھا جانے لگا۔مسلمان اپنے ہی ملک میں بیگانے ہو کر رہ گئے تھے ۔ممبئی بم دھماکوں سے مسلمان اس کیفیت سے باہر تو نکل گئے لیکن سماجی سائنسدانوں کے مطابق مسلمانوں پر دوسری نظریاتی یلغارشروع ہو گئی۔

partition 1تقسیم سے دونوں سماجوں کا اتنا بڑا نقصان ہوا جس کی بھرپائی 60سال بیتنے کے بعد بھی نہیں ہو پائی ۔ملک تقسیم ہو گیا لیکن معاشراتی جنگ جاری رہی ۔ 47کے واقعات نے کتنے مسلمانوں کو مرتد کر دیا ۔1971تک ملک میں بے یقینی کی کیفیت تھی ۔ غیر مسلم تقسیم کے لئے مسلمانوں کو ذمہ دار سمجھتا تھا ۔ اور مسلمان پاکستا ن جانے کا خواہشمند ۔ ملکی سطح پر مسلمانوں کو فورسیز میں نہ لینے کا فیصلہ ہوا ۔ اتر پردیش میں تو با قاعدہ اس کا آڈر جاری کیا گیا ۔ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ بہو گنا نے اس کیفیت کو بدلنے کی کوشش کی ۔​

مسلمان 30برسوں تک اپنے ماتھے پر لگے غداری کے کنک کو دھوتا رہا ۔ کوئی جلسہ ایسا نہیں ہوتا تھا جس میں وفاداری کا عہد دہرایا نہ جاتا ہو ۔ کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ تقسیم کے لئے اصل ذمہ دار کون تھا اور کس نے مسلمانوں کے منھ پر کالکھ پوتی ۔ کبھی کبھی کوئی آواز اس سلسلہ میں اٹھی بھی تو وہ عوام تک نہیں پہنچ پائی ۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس ملک میں حقیقت پسند لوگ نہیں ہیں ۔ سچے حضرات ہیں لیکن بہت کم اور جو ہیں ان کی آواز محدود ہے ۔ عوام تک ان کی رسائی نہیں ۔ عوام تک جن کی رسائی ہے یا تو وہ مصلحت کے شکار ہیں یا پھر اپنے محدود اور حقیر فائدوں کے لئے بے ایمان ۔ وہ متحد سماج دیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔ ان کے مفادات نفرت سے پورے ہوتے ہیں ۔ ان کی شروعات نفرت سے ہوتی ہے اور اختتام بھی ۔ بے پڑھے لکھے سادہ اور مذہبی ذہن رکھنے والے ان کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ تعلیم ، علم اور معلومات کے فروغ سے ان حالات میں تبدیلی رو نما ہو رہی ہے ۔​ تقسیم کا غم بھلا کر مسلمان دھیرے دھیرے اپنی معاشرت اور معیشت سدھارنے میں لگ گئے ۔ انہوں نے چھوٹے چھوٹے دندھوں کو انڈسٹری میں تبدیل کر دیا ۔ کاریگر سے لیکر مالک اور سپلائر سے ایکسپورٹ تک بن گئے ۔ مسلم مخالف یا ملک مخالف عناصر کو یہ برداشت نہیں ہوا ۔ ایک بار پھر فسادات کا سلسلہ جاری ہوا ۔ ہر اس مقام پر فساد کرایا گیا اور ایک سے زیادہ مرتبہ کرایا گیا جہاں مسلمانوں کی مالی حالت اچھی تھی ۔ ادیوگ ان کے ہاتھ میں تھا یا جہاں مسلمان دھیرے دھیرے اکٹھے ہو رہے تھے ۔یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کاروبار مسلمانوں سے غیر مسلموں میں منتقل نہیں ہوا ۔ مسلمان ایک بار پھر کاریگر یا کارخانے دار بن کر رہ گیا ۔ پورے ملک میں اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں ۔ ان فسادات نے مسلمانوں کی معسیت پر تو اثر ڈالا لیکن ان کا تشخص اور اسلامی قدریں باقی رہیں۔​

babriایک وقت ایسا بھی آیاجب مسلم لڑکے لڑکیاں غٖیر مسلموں سے بڑی تعداد میں شادی کررہے تھے ۔ ایسا بھی ہواکہ دونوں اپنے اپنے مذہب پر قائم رہے ۔ ملک میں ایک مخلوت معاشرے بننا شروع ہو گیا تھا ان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ، کمیونسٹ یا مذہب سے واقفیت نہ رکھنے والے حضرات شامل تھے ۔ بابری مسجد کی شہادت اور ملک گیر فسادات نے اس سلسلہ پر روک سی لگادی ۔ مسلمانوں میں یہ فکر جاگ گئی کہ ہم کتنے ہی لبرل کیوں نہ ہو جائیں ہم اپنے ہم وطنوں کے ساتھ کتنے ہی گھل مل نہ جائیں وہ ہمیں اپنا نہ سمجھ کر مسلمان سمجھتے ہیں اور اسی طرح ہمارے ساتھ Behaveکرتے ہیں تو کیوں نہ ہم مسلمان بن کر زندہ رہیں ۔اور مسلمان بن کر لوگوں سے رشتہ استوار کریں ۔ مشہور صخافی خوشونت سنگھ نے اس عمل کو دو معاشروں کے ملن یا رواداری کے لئے خطرہ بتایا تھا ۔​

فسادات کے ذریعہ خوف پیدا کرکے مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنے کا منصوبہ ایک طرف سے ناکام ہو گیا ۔ دوسری طرف مسلمانوں کے سامنے فسادات کی سیاست کرنے والوں کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ۔ عالمی سطح پر اسلام مخالفوں کی (روس کے زوال کے بعد) یہ فکر رہی ہے کہ مسلمانوں کو کس طرح اسلام کے بنیادی اصولوں ، تعلیمات اور اقدارسے دور رکھا جائے ۔بھلے ہی وہ لباس ، چہرے مہرے سے مسلمان لگتے ہوں ، قرآن بھی پڑھتے ہوں لیکن قرآن و سنت پرعمل نہ کریں ۔ اس لئے انہیں چھوٹی چھوٹی چیزوں میں الجھا کر رکھا جائے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اسلام کے اندر وہ کشش ہے جس کے سامنے سب کی روشنی پھیکی پڑ جائے گی ۔ہندوستا ن کے غیر مسلم سماجی مفکر اس فکر کے حامی نظر آتے ہیں ۔ پچھلی دو دہائیوں سے دیکھنے کو مل رہا ہے کہ مسلمانوں کے مثبت اقدام سامنے نہیں آتے ۔ مسلم معاشرے کو بدلنے کے لئے دو سطح پر کام ہو رہا ہے ۔ ایک ذہنی سطح پر راشٹریہ وادی مسلم آندولن جیسی تنظیمیں بناکر دوسرے میڈیا کے ذریعہ ۔ ان تنظیموں کا ٹارگیٹ وہ عام مسلمان ہیں جو مذہب کی معلومات نہیں رکھتے یا کم معلومات رکھتے ہیں ۔ یہ فلسفہ تاویلیوں سے انہیں گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔​

میڈیا ہندو میتھو لوجی ، رسم و رواج اور پوجا پاٹ کے طریقوں کو پھیلانے میں اہم رول ادا کررہا ہے ۔ جن گھروں یا علاقوں میں ہندو مبلغ تنظیموں کا پہنچنا ممکن نہیں وہاں میڈیا ان کی باتوں کو پہنچا رہا ہے ۔ایک درجن سے زیادہ ٹی وی چینل ایسے ہیں جو ہندو میتھو لوجی کے فروغ کا کام کررہے ہیں ۔ کچھ چینل ایسے ہیں جو عورتوں بچوں میں بہت مقبول ہیں ۔ یہ مذہبی نہ ہوتے ہوئے بھی ہندو رسم رواج ، رہن سہم ، کھانا پینا ، تیر وتیوہار اور پوجا پاٹ پر مشتمل پروگرام دکھاتے ہیں ۔ ان میں اسٹار پلس سب سے آگے ہے ۔ باقی چینل بھی ایک آد ہندو مذہب کے اقدار و روایات پر مشتمل پروگرام دکھانا فرض کیفایہ سمجھتے ہیں ۔​

اس ضمن میں اردو اخباراں کا ذکر بھی ضروری ہے ۔ اردو کے جانے انجانے مسلمانوں نے اپنی زبان کے طور پر قبول کر لیا ہے اردو میں جو چیز یں شائع ہوتی ہیں وہ مسلمانوں میں سیدھے طور پر پہنچتی ہیں ۔ اس حقیقت کوع غیر وں نے خوب اچھی طرح سمجھا ہے ۔ پرتاپ م تیج اور ہند سماچار ایک عرصہ سے شائع ہو رہے ہیں ان اخباروں کو مسلمانوں نے اپنے اخبار کے طور پر کبھی قبول نہیں کیا ۔ ان کے مقابلے قومی آواز ، ہمارا سماج ، اخبار مشرق ، مشرقی آواز ، صحافت ، اردونیٹ ، سیکولر قیادت مسلمانوں میں مقبول رہے ۔ قومی آواز کانگریس کا اخبار تھا ،کانگریس مسلمانوں میں جو چیزیں چاہتی تھی یا خوبی پہنچا دیتی تھی ۔ اس چیز کو کئی دوسرے گروُوں نے بھی محسوس کیا ہے ۔ راشٹریہ سہارا اسی طرح کی سوچ کا نتیجہ ہے ۔ سہارا کی مار اتنی دور تک ہے کہ چھوٹے مقامی اخبار دم توڑ رہے ہیں ۔ اس کے پیچھے وسائل و پیسے دونوں موجود ہیں ۔ اب انقلاب جاگرن گروپ نکالے گا ۔ اس اخبار کی پوری طرح آنے کے بعد جو کثر تھی وہ پوری ہو جائے گی ۔​

بات ہو رہی ہے ۔مسلمانوں کے منظر نامہ کے بدلنے کی ۔ اس کے موٹے موٹے جو عوامل تھے وہ مختصرا بیان کئے جا چکے ہیں ۔ اس مضمون کا مقصد مسلم سماجی سائنسدانوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ہے تاکہ وہ ان عوامل کا تجزیہ کرکے مسلم سماج کو اس معاشراتی جنگ سے بچانے کی کوشش کر سکیں ۔ ہمارا ماننا ہے کہ سابق جو بھی طریقے مسلمانوں کو مذہب سے دور رکھنے یا انہیں گمراہ کرنے کے لئے اپنائے گئے وہ ہمارے سماجی نظام اور اسلامی تعلیمات کے سامنے کمزور پڑ گئے ۔نظریاتی آندھی انہیں اڑا کر نہ لے جا سکی ۔

اس وقت جدید طریقوں سے ہندو ازم کی جو یلغار ہو رہی ہے اس سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا ہمارے بچے آج اپنے نبی ؐ ، اہل بیت ؑ یا صحابہ کرام کے بارے میں اتنا نہیں جانتے جتنا رادھا کرشن ، رام لکچھمن اور ہنومان کے بارے میں ۔ مسلم گھروں سے قرآن کی تلاوت کی آواز کے بجائے ، گانے فلم اور ٹی وی سیریلوں کی آواز آتی ہے ۔اس منظر نامے کی تبدیلی کے لئے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں ۔ ہم نے اس نظریاتی یلغار کو روکنے کے لئے قدم نہیں اٹھائے ۔اب بھی وقت ہے کہ سماجی سائنسدانوں سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس منظر نامے کو بدلنے سے روکنے کی تدبیر سوچیں ۔جن جدید طریقوں سے ہم پر غیر اسلامی افکار کی یلغار ہے اسے روکنے کے لئے اس سے زیادہ ایڈوانس طریقوں کو استعمال کریں ۔ آنے والی نسل کو ہم اپنے بنیؐ ،صحابہ اور بزرگوں کی رویات منتقل کر سکیں ۔امید ہے اس سے اسلام کی صحیح نمائندگی ہو سکے گی ۔

یہ مصنف کی ذاتی راۓ ہے۔



बाबरी मस्जिद की शहादत और मुल्क में ख़ूनी फ़सादात से 1947 की एक झलक सामने आई। मुसलमान मायूसी, लाचारी और बेबसी की कैफ़ीयत में मुबतला हो गया। ट्रेनों में टोपी कुरते और दाढ़ी वालों को अजब नज़रों से देखा जाने लगा। मुसलमान अपने ही मुल्क में बेगाने हो कर रह गए थे। मुंबई बम धमाकों से मुसलमान इस कैफ़ीयत से बाहर तो निकल गए लेकिन समाजी साईंसदानों के मुताबिक़ मुसलमानों पर दूसरी नज़रियाती यलग़ार शुरू हो गई।

तक़सीम से दोनों समाजों का इतना बड़ा नुक़्सान हुआ जिसकी भरपाई 60 साल बीतने के बाद भी नहीं हो पाई। मुल्क तक़सीम हो गया लेकिन मआशिराती जंग-ए-जारी रही। 47 के वाक़ियात ने कितने मुसलमानों को मुर्तद कर दिया। 1971 तक मुल्क में बे-यक़ीनी की कैफ़ीयत थी। ग़ैर मुस्लिम तक़सीम के लिए मुसलमानों को ज़िम्मेदार समझता था। और मुसलमान पाकिस्तान जाने का ख़ाहिशमंद। मुल्की सतह पर मुसलमानों को फ़ोरसीज़ में न लेने का फ़ैसला हुआ। उत्तर प्रदेश में तो बाक़ायदा उस का आर्डर जारी किया गया। उत्तर प्रदेश के साबिक़ वज़ीर-ए-आला बहुगुणा ने इस कैफ़ीयत को बदलने की कोशिश की।​​

मुसलमान 30 बरसों तक अपने माथे पर लगे ग़द्दारी के कनक को धोता रहा। कोई जलसा ऐसा नहीं होता था जिसमें वफ़ादारी का अह्द दुहराया न जाता हो। किसी ने ये जानने की कोशिश नहीं की कि तक़सीम के लिए असल ज़िम्मेदार कौन था और किस ने मुसलमानों के मुँह पर कालिख पोती। कभी कभी कोई आवाज़ इस सिलसिले में उठी भी तो वो अवाम तक नहीं पहुंच पाई।

मैं ये नहीं कहता कि इस मुल्क में हक़ीक़तपसंद लोग नहीं हैं। सच्चे हज़रात हैं लेकिन बहुत कम और जो हैं उनकी आवाज़ महदूद है। अवाम तक उनकी रसाई नहीं। अवाम तक जिनकी रसाई है या तो वो मस्लिहत के शिकार हैं या फिर अपने महिदूद और हक़ीर फ़ाइदों के लिए बेईमान। वो मुत्तहिद समाज देखना ही नहीं चाहते। उनके मुफ़ादात नफ़रत से पूरे होते हैं। उनकी शुरुआत नफ़रत से होती है और इख़तताम भी। बे पढ़े लिखे सादा और मज़हबी ज़हन रखने वाले इनका शिकार हो जाते हैं। तालीम, इल्म और मालूमात के फ़रोग़ से उन हालात में तबदीली रौनुमा हो रही है।​​

तक़सीम का ग़म भुला कर मुसलमान धीरे धीरे अपनी मुआशरत और मईशत सुधारने में लग गए। उन्होंने छोटे छोटे धन्दों को इंडस्ट्री में तबदील कर दिया। कारीगर से लेकर मालिक और स्पलायर से एक्सपोर्ट तक बन गए। मुस्लिम-मुख़ालिफ़ या मुल्क-मुख़ालिफ़ अनासिर को ये बर्दाश्त नहीं हुआ। एक-बार फिर फ़सादात का सिलसिला जारी हुआ। हर उस मुक़ाम पर फ़साद कराया गया और एक से ज़्यादा मर्तबा कराया गया जहां मुसलमानों की माली हालत अच्छी थी, उद्योग उनके हाथ में था या जहां मुसलमान धीरे धीरे इकट्ठे हो रहे थे। ये सिलसिला उस वक़्त तक जारी रहा जब तक कारोबार मुसलमानों से ग़ैर-मुस्लिमों में मुंतक़िल नहीं हुआ। मुसलमान एक-बार फिर कारीगर या कारख़ानेदार बन कर रह गया। पूरे
मुल्क में इस की हज़ारों मिसालें मौजूद हैं। इन फ़सादात ने मुसलमानों की मासियत पर तो असर डाला लेकिन उनका तशख़्ख़ुस और इस्लामी क़द्रें बाक़ी रहीं।​​

एक वक़्त ऐसा भी आया जब मुस्लिम लड़के लड़कियाँ ग़ैर-मुस्लिमों से बड़ी तादाद में शादी कर रहे थे! ऐसा भी हुआ कि दोनों अपने अपने मज़हब पर क़ायम रहे। मुल्क में एकमख़लूत मुआशरे बनना शुरू हो गया था; उनमें आला तालीम-ए-याफ़ता, कमीयूनिसट या मज़हब से वाक़फ़ीयत न रखने वाले हज़रात शामिल थे। बाबरी मस्जिद की शहादत और मुल्क गीर फ़सादात ने इस सिलसिले पर रोक सी लगा दी। मुसलमानों में ये फ़िक्र जाग गई कि हम कितने ही लिबरल क्यों ना हो जाएं, हम अपने हमवतनों के साथ कितने ही घुलमिल न जाएं, वो हमें अपना न समझ कर मुसलमान समझते हैं और इसी तरह हमारे साथ behave करते हैं, तो क्यों ना हम मुसलमान बन कर ज़िंदा रहें? और मुसलमान बन कर लोगों से रिश्ता उस्तिवार करें। मशहूर सख़ाफ़ी खुशवंत सिंह ने इस अमल को दो मआशरों के मिलन या
रवादारी के लिए ख़तरा बताया था।​​

फ़सादात के ज़रीये ख़ौफ़ पैदा करके मुसलमानों को इस्लाम से दूर करने का मन्सूबा एक तरफ़ से नाकाम हो गया। दूसरी तरफ़ मुसलमानों के सामने फ़सादात की सियासत करने वालों का चेहरा बेनक़ाब हो गया। आलमी सतह पर इस्लाम मुख़ालिफ़ों की (रूस के ज़वाल के बाद) ये फ़िक्र रही है कि मुसलमानों को किस तरह इस्लाम के बुनियादी उसूलों, तालीमात और इक़दार से दूर रखा जाये। भले ही वो लिबास, चेहरे-मुहरे से मुसलमान लगते हूँ, क़ुरआन भी पढ़ते हों, लेकिन क़ुरआन-ओ-सुन्नत पर अमल न करें।

इसलिए उन्हें छोटी छोटी चीज़ों में उलझा कर रखा जाये। वो जानते हैं कि इस्लाम के अंदर वो कशिश है जिसके सामने सबकी रोशनी फीकी पड़ जाएगी। हिन्दोस्तान के ग़ैर मुस्लिम समाजी मुफ़क्किर इस फ़िक्र के हामी नज़र आते हैं। पिछली दो दहाइयों से देखने को मिल रहा है कि मुसलमानों के मुसबत इक़दाम सामने नहीं आते। मुस्लिम मुआशरे को बदलने के लिए दो सतह पर काम हो रहा है। एक ज़हनी सतह पर राष्ट्रीय वादी मुस्लिम आंदोलन जैसी तंज़ीमें बना कर, दूसरे मीडीया के ज़रीए। उन तन्ज़ीमों का टार्गेट वो आम मुसलमान हैं जो मज़हब की मालूमात नहीं रखते या कम मालूमात रखते हैं। ये फ़लसफ़ा तावीलयों से उन्हें गुमराह करने में कामयाब हो जाते हैं।​​

Geeta-Saar-Mahabharat-BR-chopraमीडीया हिंदू मीथोलोजी, रस्म-ओ-रिवाज और पूजापाठ के तरीक़ों को फैलाने में अहम रोल अदा कर रहा है। जिन घरों या इलाक़ों में हिंदू मबलग़ तन्ज़ीमों का पहुंचना मुम्किन नहीं, वहां मीडीया उनकी बातों को पहुंचा रहा है। एक दर्जन से ज़्यादा टीवी चैनल ऐसे हैं जो हिंदू मीथोलोजी के फ़रोग़ का काम कर रहे हैं। कुछ चैनल ऐसे हैं जो औरतों बच्चों में बहुत मक़बूल हैं। ये मज़हबी न होते हुए भी हिंदू रस्म रिवाज, रहन सहम, खाना पीना, तीर ओ त्यौहार और पूजापाठ पर मुश्तमिल प्रोग्राम दिखाते हैं। उनमें स्टार प्लस सबसे आगे है। बाक़ी चैनल भी एक-आद हिंदूमज़हब के इक़दार-ओ-रवायात पर मुश्तमिल प्रोग्राम दिखाना फ़र्ज़ कीफ़ायह समझते हैं।​​

इस ज़िमन में उर्दू अख़बारां का ज़िक्र भी ज़रूरी है। उर्दू के जाने अनजाने मुसलमानों ने अपनी ज़बान के तौर पर क़बूल कर लिया है; उर्दू में जो चीज़ें शाया होती हैं वो मुसलमानों में सीधे तौर पर पहुँचती हैं। इस हक़ीक़त को ग़ैरों ने ख़ूब अच्छी तरह समझा है। प्रतापतेज और हिंद समाचार एक अरसे से शाया हो रहे हैं; इन अख़बारों को मुसलमानों ने अपने अख़बार के तौर पर कभी क़बूल नहीं किया। उनके मुक़ाबले क़ौमी आवाज़, हमारा समाज, अख़बार मशरिक़, मशरिक़ी आवाज़, सहाफ़त, उर्दू नैट, सैकूलर क़ियादत मुसलमानों में मक़बूल रहे। क़ौमी आवाज़ कांग्रेस का अख़बार था; कांग्रेस मुसलमानों में जो चीज़ें चाहती थी या ख़ूबी पहुंचा देती थी। इस चीज़ को कई दूसरे ग्रोवों ने भी महसूस किया है। राष्ट्रीय सहारा इसी तरह की सोच का नतीजा है। सहारा की मार इतनी दूर तक है कि छोटे मुक़ामी अख़बार दम तोड़ रहे हैं। उस के पीछे वसाइल-ओ-पैसे दोनों मौजूद हैं। अब इन्क़िलाब जागरण ग्रुप निकालेगा। इस अख़बार की पूरी तरह आने के बाद जो कसर थी वो पूरी हो जाएगी।​​

बात हो रही है मुसलमानों के मंज़र-नामा के बदलने की। इस के मोटे मोटे जो अवामिल थे वो मख़तसरा बयान किए जा चुके हैं। इस मज़मून का मक़सद मुस्लिम समाजी साईंसदानों की तवज्जे इस तरफ़ मबज़ूल कराना है ताकि वो इन अवामिल का तजज़िया करके मुस्लिम समाज को इस मआशिराती जंग से बचाने की कोशिश कर सकें। हमारा मानना है कि साबिक़ जो भी तरीक़े मुसलमानों को मज़हब से दूर रखने या उन्हें गुमराह करने के लिए अपनाए गए वो हमारे समाजी निज़ाम और इस्लामी तालीमात के सामने कमज़ोर पड़ गए। नज़रियाती आंधी उन्हें उड़ा कर न ले जा सकी।

इस वक़्त जदीद तरीक़ों से हिंदूइज़म की जो यलग़ार हो रही है इस से कोई महफ़ूज़ नहीं रहेगा। हमारे बच्चे आज अपने नबी ई, अहल-ए-बैत आया सहाबा किराम के बारे में इतना नहीं जानते जितना राधा-कृष्ण, राम-लक्ष्मण और हनूमान के बारे में। मुस्लिम घरों से क़ुरआन की तिलावत की आवाज़ के बजाय, गाने फ़िल्म और टीवी सीरियलों की आवाज़ आती है। इस मंज़र नामे की तबदीली के लिए हम ख़ुद भी ज़िम्मेदार हैं। हमने इस नज़रियाती यलग़ार को रोकने के लिए क़दम नहीं उठाए। अब भी वक़्त है कि समाजी साईंसदानों सर जोड़ कर बैठें और इस मंज़र नामे को बदलने से रोकने की तदबीर सोचें। जिन जदीद तरीक़ों से हम पर ग़ैर इस्लामी अफ़्क़ार की यलग़ार है उसे रोकने के लिए इस से ज़्यादा ऐडवान्स तरीक़ों को इस्तेमाल करें। आने वाली नसल को हम अपने बनीऐ, सहाबा और बुज़ुर्गों की रवयात मुंतक़िल कर सकें। उम्मीद है इस से इस्लाम की सही नुमाइंदगी हो सकेगी।

यह लेखक की निजी राय है।