بہار : انتخابی سروے میں آگے کون؟

0
203


بہار انتخاب پر جتنے منھ اتنی باتیں سب کے پاس اپنی جیت کے آنکڑے ہیں ۔ ہر امیدوار اور پارٹی کے ہمدردوں کی اپنی قیاس آرائی ہوتی ہے لیکن عوام اور پارٹیاں میڈیا ہاؤسیز و ایجنسیوں کی رپورٹوں پر توجہ دیتے ہیں ۔ کچھ دن قبل ایک نیوز چینل نے بہار الیکشن پر تفصیلی رپورٹ نشر کی تھی ۔ اس رپورٹ میں عظیم اتحاد کے بڑھت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔اس رپورٹ کے بعد ہی بھاجپا کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلیوں میں اضافہ کی خبر سامنے آئی ۔ پہلے مرحلہ کی 49سیٹوں کے لئے ووٹنگ سے عین تین دن قبل انتخابی سروے کی کئی رپورٹیں جاری ہوئی ہیں ۔


ان میں سے دو نے بی جے پی اتحاد کو کامیابی کے قریب بتایا ہے تو تین نے عظیم اتحاد کو واضح اکثریت دی ہے ۔ عام طور پر اس طرح کے سروے ووٹروں کو بھرمانے اور کئی کی رائے بدلنے میں معاون ہوتے ہیں کیونکہ کئی مرتبہ ان سرووں میں سیاسی مقاصد پوشیدہ رہتے ہیں ۔یا یوں کہا جائے کہ یہ Politically Motivatedہوتے ہیں ۔
آگے بڑھنے سے پہلے تازہ سروے پر نظر ڈال لی جائے ۔ انڈیا ٹوڈے گروپ اور سسرو نے مشترکہ طور پر سروے کیا ہے یہ سروے دو مرحلہ میں مکمل ہوا ہے پہلا ستمبر میں اور دوسر ا اکتوبر کے پہلے ہفتہ میں۔ اس کے مطابق بھاجپاکے این ڈی اے پر عظیم اتحاد کو معمولی بڑھت ملی ہے ۔ سروے کے پہلے دور میں جے ڈی یو کے نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ کا سب سے مقبول دعویدار بتایا گیا ہے و ہیں دوسرے دور میں یہ بھی بتایا گیا کہ لوگوں کا ماننا ہے کہ نتیش کمار امیدوں پر کھرے اترے ہیں اور کئی کام انہوں نے امید کے پار جا رکر بھی کئے ہیں ۔ ستمبر کے سروے میں این ڈی اے کو 125سیٹیں دی گئیں تھیں وہیں عظیم اتحاد کو 106سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا تھا ۔ دوسرے دور میں عظیم اتحاد کو 122سیٹیں ملتی دکھائی گئی ہیں جبکہ این ڈی اے کو صرف 111سیٹیں ملنے کے آثار بتائے گئے ہیں ۔


پہلے دور کا سروے بتاتا ہے کہ 43فیصد نو جوان بھاجپا کی حمایت میں تھے لیکن دوسرے دور میں یہ گھٹ کر 36فیصد رہ گئے جبکہ بھاجپا کے حق میں سرکاری ملازمین کی حمایت میں 5فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔اس میں نیتاؤ ں کی مقبولیت کو بھی آنکا گیا ہے ۔ستمبر میں نتیش کمار کی ریٹنگ 29 تھی جو اکتوبر میں بڑھ کر 38ہو گئی ہے ۔ششیل کمار مودی کی 19تھی وہ 22ہو گئی ان کی ریٹنگ بڑھنے کی رفتار کم ہے ۔اس بیچ لالو پرساد کی ریٹنگ گھٹی ہے ان کی ستمبر میں 12تھی جو گھٹ کر 9رہ گئی ۔


تائمز آف انڈیا کے اوپینین پول میں این ڈی اے کو عظیم اتحاد سے چار فیصد ووٹ زیادہ ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے یعنی 45فیصد۔چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو 10فیصد ووٹ ملنے کی بات کہی گئی ہے وہیں کمیونسٹوں کو 6فیصد کوئی فیصلہ نہ لینے والے ووٹروں میں سے حصہ ملنے کی امید جتائی گئی ہے ۔سروے میں 60-46 سال کی عمر کے لوگوں کو عظیم اتحاد کا بڑا حمایتی بتایا گیا ہے جبکہ 45-30 کی عمر والوں میں بڑی تعداد ( جو 10فیصد تک ہو سکتی ہے ) ایسے ووٹروں کی بتائی گئی ہے جو یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ وہ کس پارٹی کو ووٹ دیں گے ۔ سروے کے نمونے میں 63فیصد نے نتیش کمار کی حکومت کی کارکردگی پر مودی کے مقابلہ زیادہ بھروسہ دکھایا ہے ۔24فیصد لوگ ریاستی حکومت سے بہت زیادہ خوش نظر آئے جبکہ مرکز کی حکومت کو صرف 16فیصد نے ہی پسند کیا ۔سروے میں 46فیصد نے ریاست کے لئے سماجی انصاف اور ترقی دونوں کو ضروری بتایا۔27 فیصد نے سماجی انصاف کو فوقیت دینے کی بات کہی تو 22فیصد نے ترقی پر زور دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی سے ہی تمام طبقات کے مسائل حل ہو سکیں گے ۔


دی ٹائمز نو پول ۔سی ووٹر کے سروے میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ این ڈی اے کو 119سیٹیں مل سکتی ہیں اور عظیم اتحاد 116سیٹیں لینے میں کامیاب رہے گا ۔اس تخمینہ میں 8سیٹوں کے کم یا زیادہ ملنے کی امید جتائی گئی ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ دونوں اکثریت یعنی 243سیٹوں کی اسمبلی میں 122کے آنکڑے سے دور رہیں گے جبکہ سی AXIS ,CNN ,IBN کا ماننا ہے کہ نتیش کمار کے عظیم اتحاد کو 137سیٹیں حاصل ہوں گی اور این ڈی اے محض 95سیٹوں پر سمٹ جائے گا ۔ اس میں 8سیٹیں کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں ۔سی این این ، آئی بی ایم نے پارٹی واد سیٹوں کی تعداد کی تفصیل سے بتائی ہے ۔ اس کے مطابق این ڈی اے کی 95سیٹوں میں سے 82بی جے پی کو 8جتن رام مانجھی کی پارٹی کو 3اوپندر کشواہا کو 2رام ولاس پاسوان کے کھاتے میں جائیں گی ۔اسی طرح عظیم اتحاد کی 137سیٹوں میں 69جے ڈی یو ،48آر جے ڈی اور 20سیٹیں کانگریس کی شامل ہوں گی ۔ اس سروے کا کہنا ہے کہ بہار میں پہلی مرتبہ بی جے پی سب سے بڑے دل کی شکل میں ابھر کر سامنے آئے گی اس طرح بہار کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی رونماہونے والی ہے ۔ بی جے پی کی سرکار بنے یا نہ بنے لیکن زمینی سطح پر اس چناؤ سے اس کی پکڑ مضبوط ہوگی ہو سکتا ہے کہ آئندہ اسے مانجھی ، کشواہا اور پاسوان کی بیساکھیوں کی ضرورت نہ رہے ۔اس لحاظ سے دیکھیں تو اس کی ہار میں بھی جیت ہے ۔


صوبائی انتخاب پارلیمنٹ کے انتخاب سے مختلف ہوتا ہے اس میں مقامی مسئلے حاوی رہتے ہیں جبکہ پارلیمنٹری انتخاب میں ملک کے مسئلوں پر توجہ دی جاتی ہے لوگ سبھا چناؤ کے بعد جن صوبوں میں انتخابا ت ہوئے وہاں بی جے پی کے ووٹوں میں 6سے 8فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے ۔اگر ایک پل کے لئے یہ مان لیا جائے کہ بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کو اتنے ووٹ ملیں گے جتنے لوک سبھا چناؤ میں ملے تھے تو اس سے بھی سی این این ، آئی بی این کے نتائج کی تصدیق ہوتی ہے ۔ تب بی جے پی ، ایل جے پی اور آر ایل ایس پی کو 38.77فیصد ووٹ ملے تھے ۔عظیم اتحاد کے ساتھیوں کو 45.06فیصد ووٹ ۔مانجھی کے ووٹ اور جوڑ لئے جائیں تب بھی یہ ووٹ فیصد 40کے آس پاس رہے گا ۔اس حساب سے بھی بی جے پی اتحاد کو 90-95سیٹیں اور عظیم اتحاد کو 140کے قریب ملنی چاہئے ۔ بحر حال یہ چناؤ کے نتیجے بتائیں گے کہ کس اتحاد کو کتنی سیٹیں ملیں ۔


چناؤ کا تجزیاتی مطالعہ کرنے والی تنظیم سی ایس ڈی ایس لوک نیتی نے ان اعداد و شمار پر دلچسپ جائزہ پیش کیا ہے اس سے بہار میں چناؤ لڑ رہے دلوں کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ پچھلے لوک سبھا کے نتیجوں کی بنیاد پر اس نے تمام اسمبلی حلقوں کو چار حصوں میں بانٹا ۔ ایک وہ جہاں بی جے پی چناؤ لڑی اور این ڈی اے آگے رہا ۔ ان میں 73علاقے ایسے تھے جہاں عظیم اتحاد اپنے سارے ووٹ ملا کر بھی بی جے پی سے کم از کم پانچ فیصد ووٹوں سے پیچھے رہا یعنی یہ 73سیٹیں بی جے پی جیت سکتی ہے ۔دوسرے وہ حلقے جہاں بی جے پی چناؤ لڑی تھی لیکن این ڈی اے پیچھے رہا ایسے 29حلقوں میں عظیم اتحاد کے کل ووٹ این ڈی اے سے 23فیصد زیادہ تھے ۔یعنی یہ 29سیٹیں عظیم اتحاد کی پکی سمجھنی چاہئے ۔ تیسرے وہ 43اسمبلی حلقے ہیں جہاں بی جے پی چناؤ نہیں لڑی اور جن میں این ڈی اے پیچھے رہا تھا ان میں عظیم اتحاد کے ووٹ این ڈی اے کے مقابلہ 26فیصد زیادہ تھے یعنی وہ 43سیٹیں عظیم اتحاد کو آسانی سے مل سکتی ہیں ۔ چوتھے وہ 98حلقے جہاں بی جے پی نہیں لڑی تھی لیکن این ڈی سے آگے رہا تھا ان حلقوں میں عظیم اتحاد کے کل ووٹ بی جے پی سے محض ایک فیصد زیادہ ہیں ان کو باریکی سے دیکھیں تو 17ودھان سبھا حلقوں میں این ڈی اے کے ووٹ عظیم اتحاد سے زیادہ تھے یعنی یہ 17سیٹیں این ڈی اے جیت سکتا ہے ۔22حلقوں میں عظیم اتحاد این ڈی اے سے 10فیصد زیادہ ووٹ لینے میں کامیا ب رہا تھا یعنی یہ 22سیٹیں عظیم اتحاد کے کھاتے میں رہیں گی ۔ اس طرح 73+17یعنی 90سیٹیں بی جے پی اتحاد کو اور 29+43+22 یعنی 94سیٹیں عظیم اتحاد کو جیتنے میں کوئی ارچن نہیں ہے ۔59سیٹیں ایسی ہیں جہاں لوک سبھا چناؤ میں دونوں دلوں کے بیچ ووٹوں کا فرق 10فیصد سے کم رہا تھا ان سیٹوں پر دلتوں کی آبادی زیادہ ہے ان میں سے جو دل زیادہ سیٹیں لینے میں کامیاب رہے گا وہی بہار میں سرکار بنا پائے گا ۔


ان تمام تفصیلات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مقابلہ سخت ہے مودی کی تابڑ توڑ ریلیوں ، گری راج سنگھ کا کیمرے کے سامنے ووٹ ڈالنا ، مرکزی وزیروں کی ڈیوٹی لگنا اور پرچار کے دوران امت شاہ یہاں تک کہ نریندر مودی جس طرح کی زبان استعمال کررہے ہیں اس سے بی جے پی کی بوکھلاہٹ ظاہر ہوتی ہے ۔بہار کا الیکشن جیتنے کے لئے مرکزی حکومت ایکشن کمیشن کو بھی اپنے اشارے پر نچانے کی کوشش کررہی ہے عین ووٹنگ کے دن نریندر مودی کی ریلی کا ہونا اس طرف اشارہ کرتا ہے ۔وکاس کی بات کرتے کرتے بی جے پی اتحاد گائے پر آکر اٹک گیا ہے جبکہ بہار میں قانونی طور پر گاؤ کشی پہلے سے ہی بند ہے ۔بہار کی زمینی حقیقت کمر توڑ غریبی اور سماجی پچھڑا پن ہے ۔ 65فیصد آبادی یعنی 6.5کروڑ لوگوں کے پاس سوئی کی نوک کے برابر بھی زمین نہیں ہے گاؤں میں سرکاری نوکری کل دیہی آبادی میں سے 4فیصد کو بھی میسر نہیں ہے ایسے میں چناؤ پرچار پر فضول کے مسئلوں ، ذاتی واد اور نجی حملوں کا حاوی ہونا افسوس ناک ہے ۔


بہار کے انتخابی سروے سے یہ بات بھی ابھر کر سامنے آرہی ہے کہ چناؤ میں تین چار سیٹیں لانے والی چھوٹی پارٹیاں کنگ  میکر کا رول ادا کر سکتی ہیں ۔سروے بی جے پی اتحاد کے خلاف جاتے نظر آرہے ہیں اس لئے وہ اپنے سارے حربے اپنانے میں لگی ہے ۔حسین خواب بیچنے کی کوشش کی جا رہی ہے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ میں 6.15فیصد کا پچھلے اسمبلی انتخاب کے مقابلہ اضافہ ہوا ہے ۔پچھلے چناؤ کے پہلے مرحلہ میں 50.85فیصد ووٹ پڑے تھے واضح رہے کہ جن 49سیٹوں کے لئے ووٹ پڑے ہیں ان میں سے 34پر نتیش لالو کا قبضہ ہے زیادہ ووٹنگ سے کئی بار سروے رپورٹوں کے اندازے غلط ہو جاتے ہیں لیکن ہر بار ایسا ہو یہ ضروری نہیں بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ بہار کے لوگ بھاجپا کے خیالی جملوں سے کتنے متاثر ہوتے ہیں ۔کس کو دیوالی مبارک کہتے ہیں اور کس کو بنواس کی سزا سناتے ہیں ۔۔


Party/Alliance BJP+ JDU+ Others
Seats Votes Seats Votes Seats Votes
Zee News (Oct) 147 53.80% 64 40.20% 32 6%
Times Now-C Voter (Oct) 117 43% 112 42% 14 15%
ABP-Neilsen (Oct) 128 42% 112 40% 3 18%
India Today–Cicero (Oct) 107-115 39% 117-125 41% 0 20%
CSDS-Indian Express (Oct) 42% 38% 20%
News Nation 111 – 115 42% 125 – 129 45% 2 13%
Poll of polls (Mean of all the seats and vote share of all above polls)
Party/Alliance BJP+ JDU+ Others
Seats Votes Seats Votes Seats Votes
118 42.80% 112 42% 13 15.20%

बिहार — इंतख़ाबी सर्वे में आगे कौन?

बिहार इंतख़ाब पर जितने मुँह, इतनी बातें; सब के पास अपनी जीत के आंकड़े हैं। हर उम्मीदवार और पार्टी के हमदर्दों की अपनी क़ियास आराई होती है लेकिन अवाम और पार्टियाँ मीडिया हाउसेस और एजेंसियों की रिपोर्टों पर तवज्जो देते हैं। कुछ दिन क़बल एक न्यूज़ चैनल ने बिहार चुनाव पर तफ़सीली रिपोर्ट नशर की थी। इस रिपोर्ट में अज़ीम इत्तिहाद के बढ़त हासिल करने का दावा किया गया था। इस रिपोर्ट के बाद ही भाजपा की जानिब से वज़ीर-ए-आज़म नरेंद्र मोदी की रैलीयों में इज़ाफ़ा की ख़बर सामने आई।

पहले मरहला की 49 सीटों के लिए वोटिंग से ऐन 3 दिन क़बल इंतिख़ाबी सर्वे की कई रिपोर्टें जारी हुई हैं। उनमें से 2 ने बीजेपी इत्तिहाद को कामयाबी के क़रीब बताया है तो 3 ने अज़ीम इत्तिहाद को वाज़िह अक्सरीयत दी है। आम तौर पर इस तरह के सर्वे वोटरों को भरमाने और कई की राय बदलने में मुआविन होते हैं क्योंकि कई मर्तबा उन सर्वेज़ में सियासी मक़ासिद पोशीदा रहते हैं। या यूँ कहा जाये कि ये politically motivated होते हैं।

आगे बढ़ने से पहले ताज़ा सर्वे पर नज़र डाल ली जाये । इंडिया टुडे  ग्रुप और सिसरो ने मुशतर्का तौर पर सर्वे किया है; ये सर्वे दो मरहले में मुकम्मल हुआ है; पहला सितंबर में और दूसरा अक्तूबर के पहले हफ़्ते में। इस के मुताबिक़ भाजपा के एनडीए पर अज़ीम इत्तिहाद को मामूली बढ़त मिली है । सर्वे के पहले दौर में जेडीयू के नितीश कुमार को वज़ीर-ए-आला का सबसे मक़बूल दावेदार बताया गया है और दूसरे दौर में ये भी बताया गया कि लोगों का मानना है कि नितीश कुमार उम्मीदों पर खरे उतरे हैं और कई काम उन्होंने उम्मीद के पार जा कर भी किए हैं । सितंबर के सर्वे में एनडीए को 125 सीटें दी गईं थीं वहीं अज़ीम इत्तिहाद को 106 सीटें मिलने का अंदाज़ा लगाया गया था। दूसरे दौर में अज़ीम इत्तिहाद को 122 सीटें मिलती दिखाई गई हैं जबकि एनडीए को सिर्फ़ 111 सीटें मिलने के आसार बताए गए हैं।

पहले दौर का सर्वे बताता है कि 43 फ़ीसद नौजवान भाजपा की हिमायत में थे लेकिन दूसरे दौर में ये घट कर 36 फ़ीसद रह गए जबकि भाजपा के हक़ में सरकारी मुलाज़मीन की हिमायत में 5 फ़ीसद का इज़ाफ़ा हुआ है। इस में नेताओं की मक़बूलियत को भी आंका गया है। सितंबर में नितीश कुमार की रेटिंग 29 थी जो अक्टूबर में बढ़कर 38 हो गई है। सुशील कुमार मोदी की 19 थी वो 22 हो गई ;उनकी रेटिंग बढ़ने की रफ़्तार कम है। इस बीच लालू प्रसाद की रेटिंग घट गई है; उनकी सितंबर में 12 थी जो घट कर 9 रह गई।

टाइम्स अफ़ इंडिया के ओपीनियन पोल में एनडीए को अज़ीम इत्तिहाद से चार फ़ीसद वोट ज़्यादा मिलने का दावा किया गया है यानी 45 फ़ीसद। छोटी पार्टियों और आज़ाद उम्मीदवारों को 10 फ़ीसद वोट मिलने की बात कही गई है, वहीं कम्युनिस्टों को 6 फ़ीसद कोई फ़ैसला न लेने वाले वोटरों में से हिस्सा मिलने की उम्मीद जताई गई है। सर्वे में 60-46 साल की उम्र के लोगों को अज़ीम इत्तिहाद का बड़ा हिमायती बताया गया है जबकि 45-30 की उम्र वालों में बड़ी तादाद (जो 10 फ़ीसद तक हो सकती है) ऐसे वोटरों की बताई गई है जो ये तय नहीं कर पाए हैं कि वो किस पार्टी को वोट देंगे। सर्वे के नमूने में 63 फ़ीसद ने नितीश कुमार की हुकूमत की कारकर्दगी पर मोदी के मुक़ाबला ज़्यादा भरोसा दिखाया है। 24 फ़ीसद लोग रियासती हुकूमत से बहुत ज़्यादा ख़ुश नज़र आए जबकि मर्कज़ की हुकूमत को सिर्फ़ 16 फ़ीसद ने ही पसंद किया। सर्वे में 46 फ़ीसद ने रियासत के लिए समाजी इन्साफ़ और तरक़्क़ी दोनों को ज़रूरी बताया। 27 फ़ीसद ने समाजी इन्साफ़ को फ़ौक़ियत देने की बात कही तो 22 फ़ीसद ने तरक़्क़ी पर-ज़ोर दिया। उनका कहना है कि तरक़्क़ी से ही तमाम तबक़ात के मसाइल हल हो सकेंगे।

टाइम्स नाउ पोल-सी वोटर के सर्वे में ये पेशगोई की गई है कि एनडीए को 119 सीटें मिल सकती हैं और अज़ीम इत्तिहाद 116 सीटें लेने में कामयाब रहेगा। इस तख़मीना में 8 सीटों के कम या ज़्यादा मिलने की उम्मीद जताई गई है। रिपोर्ट का कहना है कि दोनों अक्सरीयत, यानी 243 सीटों की असैंबली में, 122 के आंकड़े से दूर रहेंगे जबकि सी ऐक्सिस-सीएनएन-आईबीएन का मानना है कि नितीश कुमार के अज़ीम इत्तिहाद को 137 सीटें हासिल होंगी और एनडीए महज़ 95 सीटों पर सिमट जाएगा। इस में 8 सीटें कम या ज़्यादा हो सकती हैं। सीएनएन-आईबीएन ने पार्टी वाद सीटों की तादाद तफ़सील से बताई है। इस के मुताबिक़ एनडीए की 95 सीटों में से 82 बीजेपी को, 8 जीतन राम माँझी की पार्टी को, 3 उपेन्द्र कुशवाहा को और 2 राम विलास पासवान के खाते में जाएँगी। इसी तरह अज़ीम इत्तिहाद की 137 सीटों में 69 जेडीयू, 48 आरजेडी और 20 सीटें कांग्रेस की शामिल होंगी। इस सर्वे का कहना है कि बिहार में पहली मर्तबा बीजेपी सबसे बड़े दल की शक्ल में उभर कर सामने आएगी; इस तरह बिहार की सियासत में एक बड़ी तबदीली रौनुमा होने वाली है।

बीजेपी की सरकार बने या ना बने, ज़मीनी सतह पर इस चुनाव से इस की पकड़ मज़बूत होगी। हो सकता है कि आइन्दा उसे माँझी, कुशवाहा और पासवान की बैसाखीयों की ज़रूरत न रहे। इस लिहाज़ से देखें तो इस की हार में भी जीत है।

सुबाई इंतख़ाब पार्लमेंट के इंतख़ाब से मुख़्तलिफ़ होता है; इसमें मुक़ामी मसले हावी रहते हैं जबकि पार्लमेंटरी इंतख़ाब में मुल्क के मसलों पर तवज्जो दी जाती है। लोग सभा चुनाव के बाद जिन सूबों में इंतख़ाबात हुए वहाँ बीजेपी के वोटों में 6 से 8 फ़ीसद की गिरावट देखी गई है। अगर एक पल के लिए ये मान लिया जाए कि बीजेपी और इस के साथीयों को इतने वोट मिलेंगे जितने लोक सभा चुनाव में मिले थे तो इस से भी सीएनएन-आईबीएन के नताइज की तसदीक़ होती है। तब बीजेपी, एलजेपी और आरएलएसपी को 38.77 फ़ीसद वोट मिले थे। अज़ीम इत्तिहाद के हिस्सेदारों को 45.06 फ़ीसद वोट। माँझी के वोट और जोड़ लिए जाएं तब भी ये वोट फ़ीसद 40 के आस-पास रहेगा। इस हिसाब से भी बीजेपी इत्तिहाद को 90-95 सीटें और अज़ीम इत्तिहाद को 140 के क़रीब मिलनी चाहिए। बहरहाल ये चुनाव के नतीजे बताएँगे कि किस इत्तिहाद को कितनी सीटें मिलीं।

चुनाव का तजज़ियाती मुताला करने वाली तंज़ीम सीएसडीएस-लोकनीति ने इन आदाद-ओ-शुमार पर दिलचस्प जायज़ा पेश किया है; इस से बिहार में चुनाव लड़ रहे दलों की सूरत-ए-हाल का अंदाज़ा लगाया जा सकता है। पिछले लोक सभा के नतीजों की बुनियाद पर उसने तमाम असेंबली हलक़ों को चार हिस्सों में बाँटा। एक वो जहाँ बीजेपी चुनाव लड़ी और एनडीए आगे रहा, उनमें 73 इलाक़े ऐसे थे जहाँ अज़ीम इत्तिहाद अपने सारे वोट मिला कर भी बीजेपी से कम-अज़-कम पाँच फ़ीसद वोटों से पीछे रहा, यानी ये 73 सीटें बी जे पी जीत सकती है। दूसरे वो हलक़े जहाँ बीजेपी चुनाव लड़ी थी लेकिन एनडीए पीछे रहा; ऐसे 29 हलक़ों में अज़ीम इत्तिहाद के कुल वोट एनडीए से 23 फ़ीसद ज़्यादा थे। यानी ये 29 सीटें अज़ीम इत्तिहाद की पक्की समझनी चाहिए। तीसरे वो 43 असेंबली हलक़े हैं जहाँ बीजेपी चुनाव नहीं लड़ी और जिनमें एनडीए पीछे रहा था उनमें अज़ीम इत्तिहाद के वोट एनडीए के मुक़ाबले 26 फ़ीसद ज़्यादा थे; यानी वो 43 सीटें अज़ीम इत्तिहाद को आसानी से मिल सकती हैं। चौथे वो 98 हलक़े जहाँ बीजेपी नहीं लड़ी थी लेकिन एनडीए आगे रहा था; इन हलक़ों में अज़ीम इत्तिहाद के कुल वोट बीजेपी से महज़ एक फ़ीसद ज़्यादा हैं; उनको बारीकी से देखें तो 17 विधान सभा हलक़ों में एनडीए के वोट अज़ीम इत्तिहाद से ज़्यादा थे, यानी ये 17 सीटें एनडीए जीत सकता है। 22 हलक़ों में अज़ीम इत्तिहाद एनडीए से 10 फ़ीसद ज़्यादा वोट लेने में कामयाब रहा था; यानी ये 22 सीटें अज़ीम इत्तिहाद के खाते में रहेंगी। इस तरह 73+17 यानी 90 सीटें बीजेपी इत्तिहाद को और 29+43+22 यानी 94 सीटें अज़ीम इत्तिहाद को जीतने में कोई अर्चन नहीं है। 59सीटें ऐसी हैं जहां लोक सभा चुनाव में दोनों दलों के बीच वोटों का फ़र्क़ 10 फ़ीसद से कम रहा था; इन सीटों पर दलितों की आबादी ज़्यादा है; उनमें से जो दल ज़्यादा सीटें लेने में कामयाब रहेगा वही बिहार में सरकार बना पाएगा।

इन तमाम तफ़सीलात से यही अंदाज़ा होता है कि मुक़ाबला सख़्त है। मोदी की ताबड़तोड़ रैलीयों, गिरिराज सिंह का कैमरे के सामने वोट डालना, मर्कज़ी वज़ीरों की डयूटी लगना और प्रचार के दौरान अमित शाह — यहाँ तक कि नरेंद्र मोदी — जिस तरह की ज़बान इस्तेमाल कर रहे हैं इससे बी जे पी की बौखलाहट ज़ाहिर होती है। बिहार का इलेक्शन जीतने के लिए मर्कज़ी हुकूमत इलेक्शन कमीशन को भी अपने इशारे पर नचाने की कोशिश कर रही है; ऐन वोटिंग के दिन नरेंद्र मोदी की रैली का होना इस तरफ़ इशारा करता है। विकास की बात करते-करते बीजेपी इत्तिहाद गाय पर आकर अटक गया है, जबकि बिहार में क़ानूनी तौर पर गाय कुशी पहले से ही बंद है। बिहार की ज़मीनी हक़ीक़त कमर तोड़ ग़रीबी और समाजी पिछड़ापन है। 65 फ़ीसद आबादी, यानी 6.5 करोड़ लोगों, के पास सूई की नोक के बराबर भी ज़मीन नहीं है; गांव में सरकारी नौकरी कल देही आबादी में से 4 फ़ीसद को भी मयस्सर नहीं है। ऐसे में चुनाव प्रचार पर फ़ुज़ूल के मसलों, जातिवाद और निजी हमलों का हावी होना अफ़सोसनाक है।

बिहार के इंतख़ाबी सर्वे से ये बात भी उभर कर सामने आ रही है कि चुनाव में 3-4 सीटें लाने वाली छोटी पार्टियाँ ‘किंगमेकर’ का रोल अदा कर सकती हैं। सर्वे बीजेपी इत्तिहाद के ख़िलाफ़ जाते नज़र आ रहे हैं, इसलिए वो अपने सारे हरबे अपनाने में लगी है। हसीन ख़ाब बेचने की कोशिश की जा रही है; पहले मरहले की वोटिंग में 6.15 फ़ीसद का पिछले असेंबली इंतख़ाब के मुक़ाबले इज़ाफ़ा हुआ है। पिछले चुनाव के पहले मरहले में 50.85 फ़ीसद वोट पड़े थे। वाज़िह रहे कि जिन 49 सीटों के लिए वोट पड़े हैं उनमें से 34 पर नितीश-लालू का क़ब्ज़ा है; ज़्यादा वोटिंग से कई बार सर्वे रिपोर्टों के अंदाज़े ग़लत हो जाते हैं, लेकिन हर बार ऐसा हो ये ज़रूरी नहीं। बहरहाल देखना ये है कि बिहार के लोग भाजपा के ख़्याली जुमलों से कितने मुतास्सिर होते हैं। किस को ‘दिवाली मुबारक’ कहते हैं और किस को बनवास की सज़ा सुनाते हैं।